پشاور، ممتاز دانشور۔ادیب،پشتوشاعر اور سابق افغان رکن پارلیمنٹ،فاتح الملک ننگ یوسفزئی 85سال کی عمر میں پشاور میں انتقال کر گئے۔مرحوم کو حیات آباد پشاور میں سپرد خاک کیاپش گیا۔
ننگ یوسفزئی شانگلہ پار میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم شاہ پور، شانگلہ پار اورنئی دہلی میں حاصل کی۔ خدائی خدمتگارطلباء دہلی کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو کے قریب رہے۔
ننگ یوسفزئی جوانی ہی میں افغانستان چلے گئے جہاں وہ ریڈیو کابل کے شعبئہ پشتو کے ڈایئریکٹر اور بعد ازان آل انڈیا ریڈیو دہلی میں افغان حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔وہ افغان پارلیمنٹ کے رکن رہنے کے علاوہ فقیر ایپی کے بیٹے کے اخبار گورویک کے ایڈیٹر بھی رہے۔
ننگ یوسفزئی سردار داﺅد کے قریبی ساتھی تھے لیکن انقلاب کے بعد انہیں پابند سلاسل لیا گیا۔جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے پاکستان ہجرت کی۔ انکی ادبی خدمات میں ریڈیو کابل کے لئے انکے لکھے گئے 400 ڈراموں پر مشتمل کتاب زانگو، افغانستان میں مشاہدات پر مبنی کتاب تور مخونہ سپین پوخونہ (Black Faces white covers) پشتو شاعری کا مجموعہ اور مضامین شامل ہیں۔ ننگ یوسفزئی نے اخری دم تک کتاب قلم سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔وہ عجب خان چارغولئی اور عجب خان افریدی پر تحقیق کے علاوہ یوسفزئی ریاستوں پربھی کام کررہے تھے کہ زندگی نے وفا نہ اوریہ دونوں کتابیں نامکمل رہ گئی۔ننگ یوسفزئی نے اپنے پیچھے تین بیٹے ڈاکٹر عبدالعزیز،انجینیرعبدلولی یوسفزئی،ڈاکٹر محمد اکبر اور ایک بیٹی ڈاکٹر زرلخت سوگوار چھوڑی۔


Comment