If this is your first visit, be sure to
check out the FAQ by clicking the
link above. You may have to register
before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages,
select the forum that you want to visit from the selection below.
Doobtey doobtey kashti ko uch'ala deydoon
Main nahin koi tu sahil pe uttar jayega
[COLOR="Purple"][FONT="Century Gothic"]So long as there is the earth and the heavens;
So long as the world endures;
So long as there is life in the world;
So long as a single Afghan breathes;
There will be this Afghanistan.
Long live the Afghan nation.
Long live the Republic.
Forever there be our national unity
[/FONT][/COLOR]
chalo en manzero ki saat chalte hai
bohut din hogaye hai wehsheto ki bheer main humko
darakhto par hawayen musemo ki geet gati hai
jahan par chand taro ko liye mattey may utra hai
jaha suraj ki kerne raat par pehra betatey hai
jaha khamosheyo ko gufego karney ki adaat hai
jaha se rastey jatey hai anjane musafat ko
chalo en manzero key saat chaltey hai
chalo en manzero ki saat chalte hai
bohut din hogaye hai wehsheto ki bheer main humko
I am no bird, and no nest ensnares me.
non commercial would cost less if he was in charge himself which he plans on doing. right now it's n herat but soon it will be in qanadahar.
آپ کا خط ملا۔ میں آپ کو ہر گز خط نہ لکھتی لیکن پھر خیال آیا کہ آپ کی بہن میری سہیلی ہیں اور کہیں وہ برا نہ مان جائیں۔ وہم و گمان میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ کبھی کسی غیر مرد کو خط بھیجوں گی۔
امید کرتی ہوں کہ آئندہ لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں گے کہ آپ ایک شریف گھرانے کی ایشیائی لڑکی سے مخاطب ہیں۔ احتیاطاً تحریر ہے کہ میرا آپ کو خط لکھنا اس امر کا شاہد ہے کہ ہم لوگ کس قدر وسیع خیالات کے ہیں۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ رشیدہ اور حمیدہ کو جانتے ہیں۔ کلثوم اور رفعت سے بھی واقفیت رہ چکی ہے ۔ ثریا اور اختر کو خط لکھا کرتے تھے۔ آپ کو کلب میںناچتے بھی دیکھا گیا ہے اور ایک شام کو آپ چمکیلی سی پیلے رنگ کی چیز چھوٹے سے گلاس میں پی رہے تھے اور خوب قہقہے لگا رہے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم ماڈرن نہیں ہیں۔ ہمیں یہ ہوا نہیں لگی۔ نہ اس روش پر چلنے کا ارادہ ہے۔ ہمارے ہاں جہاں مذہب، شرافت اور خاندانی روایات کا خیال ملحوظ ہے وہاں اعلیٰ تربیت اور بلند خیالی بھی ہے۔
میں بی اے (آنرز) میں پڑھتی ہوں۔ شام کو مولوی صاحب بھی پڑھانے آتے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے مجھے تانگے میں کالج سے نکلتے دیکھا تھا اور میں نے برقعے کا نقاب الٹ رکھا تھا۔ آپ نے کسی اور کو دیکھ لیا ہو گا۔ اول تو میں ہمیشہ کالج کار میں جاتی ہوں، دوسرے یہ کہ میں نقاب نہیں الٹا کرتی۔ ہمیشہ برقعہ میرے ہاتھوں میں کتابوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔
جی ہاں مجھے ٹھوس مطالعے کا شوق ہے۔ اباجان کی لائبریری میں فرائیڈ، مارکس، گراؤ چو مارکس، ڈکنز، آگاتھا کرسٹی ، پیٹر چینی، تھورن سمتھ اور دیگر مشہور مفکروں کی کتابیں موجود ہیں۔میں نے سائیکا لوجی پڑھنا شروع کی تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یہ سب کچھ تو مجھے پہلے سے معلوم ہے۔ فلاسفی پڑھی تو محسوس ہوا جیسے یہ سب درست ہے۔ سوشل سائنس پڑھی تو لگا کہ واقعی یونہی ہونا چاہئے تھا۔ آخر ہمیں ایک نہ ایک روز تو جدید تہذیب کے دائرے میں آنا تھا۔ زمانے کو بیسویں صدی تک بھی تو پہنچنا ہی تھا۔ میرے خیال میں میں کافی مطالعہ کر چکی ہوں ۔ چنانچہ آج کل زیادہ نہیں پڑھتی۔
آپ نے پوچھا ہے کہ موجودہ ادیبوں میں سے مجھے کون پسند ہیں۔ سو ڈپٹی نذیر احمد، مولانا راشد الخیری اور پنڈت رتن ناتھ سرشار میرے محبوب مصنفین ہیں۔ شاعروں میں نظیر اکبر آبادی مرغوب ہیں۔ خواتین میں ایک صاحبہ بہت پسند ہیں۔ انہوں نے صرف دو ناول لکھے ہیں جن میں جدید اور قدیم زیورات و پارچہ جات، بیاہ شادی کی ساری رسوم اور طرح طرح کے کھانوں کے ذکر کو اس خوبصورتی سے سمو دیا ہے کہ یہ پتہ چلانا مشکل ہے کہ ناول کہاں ہے اور یہ چیزیں کہاں؟
ایک اور خاتون ہیں، جو باوجود ماڈرن ہونے کے ترقی پسند نہیں ہیں۔ ان کے افسانے، ان کی امنگیں، ان کی دنیا، سب کچھ صرف اپنے گھر کی فضا اور اپنے خاوند تک محدود ہے۔ مبارک ہیں ایسی ہستیاں۔ ان کی تصویریں دیکھ دیکھ کر ان سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا۔ پھر پتہ چلا کہ ان کا رنگ مشکی ہے اور عینک لگاتی ہیں۔
آپ کی جن کزن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے کلب میں دیکھا تھا ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ کود وہاں کیا کر رہی تھیں۔
یہ جن حمید صاحب کا آپ نے ذکر کیا ہے ، وہی تو نہیں جو گورے سے ہیں۔ جن کے بال گھنگھریالے ہیں اور داہنے ابرو پر چھوٹا سا تل ہے۔ گاتے اچھا ہیں ۔ روٹھتے بہت جلد ہیں۔ جی نہیں۔ میں انہیں نہیں جانتی۔ نہ کبھی ان سے ملی ہوں۔
میری حقیر رائے میں آپ نے آرٹس پڑھ کر بڑا وقت ضائع کیا ہے۔ آپ کی بہن نے لکھا ہے کہ اب آپ کا ارادہ بزنس کرنے کا ہے۔ اگر یہی ارادہ تھا تو پھر پڑھنے کی کیا ضرورت تھی۔ عمر میں گنجائش ہو تو ضرور کسی مقابلے کے امتحان میں بیٹھ جائیے اور ملازمت کی کوشش کیجئے کیونکہ ملازمت ہر صورت میں بہتر ہے۔ اس کے بغیر نہ پوزیشن ہے نہ مستقبل۔ یہاں ڈپٹی کمشنر کی بیوی ساری زنانہ انجمنوں کی سیکرٹری ہیں اور تقریباً ہر زنانہ جلسے کی صدارت وہی کرتی ہیں۔ دوسرا فائدہ ملازمت کا یہ ہے کہ انگلستان یا امریکہ جانے کے بڑے موقعے ملتے ہیں۔ مجھے دونوں ملک دیکھنے کا ازحد شوق ہے۔
آپ نے موسیقی کا ذکر کیا ہے اور مختلف راگ راگنیوں کے متعلق میری رائے پوچھی ہے۔ جی ہاں مجھے تھوڑا بہت شوق ہے۔ جے جے ونتی سے آپ کو زیادہ دلچسپی نہیں۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ جب دلی سے بٹھبڈہ آتے وقت میں نے جے جے ونتی سٹیشن دیکھا تو مجھے بھی پسند نہیں آیا۔ میاں کی ملہار سے آپ کی مراد غالباً خاوند کی ملہار ہے۔ جی نہیں میں نے یہ نہیں سنی۔ ویسے ایک خاندان کے افراد بھی میاں کہلاتے ہیں۔ شاید یہ ان کی ملہار ہو۔ آپ کا فرمان ہے کہ ٹو ڈی صبح کی چیز ہے لیکن میں نے لوگوں کو صبح شام ہر وقت” ٹو ڈی بچہ ہائے ہائے” کے نعرے لگاتے سنا ہے۔
بھوپالی کے متعلق میں زیادہ عرض نہیں کر سکتی، کیونکہ مجھے بھوپال جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ البتہ جوگ اور بہاگ کے بارے میں اتنا جانتی ہوں کہ جب یہ ملتے ہیں تو سوزِ عشق جاگ اٹھتا ہے
(ملاحظہ ہو وہ گرامو فون ریکارڈ “جاگ سوزِ عشق جاگ)
جی ہاں مجھے فنونِ لطیفہ سے بھی دلچسپی ہے۔ مصوری، بت تراشی، موسیقی، فوٹوگرافی اور کروشیے کی بہت سی کتابیں ابا جان کی لائبریری میں رکھی ہیں۔ میں اچھی فلمیں کبھی نہیں چھوڑتی۔ ریڈیو پر اچھا موسیقی کا پروگرام ہو تو ضرور سنتی ہو، خصوصاً دوپہر کے کھانے پر۔
سیاست پر جو کچھ آپ کے لکھا ہے اس کے متعلق اپنی رائے اگلے خط میں لکھوں گی۔
آپ کی بہن مجھ سے خفا ہے اور خط نہیں لکھتی۔ شکایت تو الٹی مجھے ان سے ہونی چاہئے۔ انہوں نے رفی کو وہ بات بتا دی جو میں نے انہیں بتائی تھی کہ اسے نہ بتانا۔ خیر بتانے میں تو اتنا حرج نہ تھا لیکن میں نے ان سے تاکیداً کہا تھا کہ اس سے نہ کہنا کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ اس سے نہ کہنا۔
پتہ نہیں یہ کزن والی کون سی بات ہے جس پر انہوں نے مجھ سے قسم لی تھی کہ رفی تک نہ پہنچے۔ مجھے تو یاد نہیں۔ ویسے میری عادت نہیں کہ دانستہ طور پر کوئی بات کسی اور کو بتاؤں۔ اگر بھولے میں منہ سے نکل جائے تو اور بات ہے۔
خط گھر کے بجائے کالج کے پتے پر بھیجا کیجئے اور اپنے نام کی جگہ کوئی فرضی نام لکھا کیجئے تاکہ یوں معلوم ہو جیسے کوئی سہیلی مجھے خط لکھ رہی ہے۔
باقی سب خیریت ہے۔
فقط
آپ کی بہن کی سہیلی
( اور اس خط کا ذکر کسی سے بھی مت کیجئے۔ تاکیداً عرض ہے۔
Yeh Daag Daag Ujaala, Yeh Sabkajida Sehar
Woh Intzaar Tha Jisaka Yeh Woh Sehar Toh Nahi
Yeh Woh Sehar Toh Nahi, Jisaki Aarju Leke Chale The
Yaar Ki Mil Jaayegi Kahin Na Kahin
Falak Ke Dasht Mein Taaron Ki Aakhari Manjil
Kahin Toh Hoga Shabesust Mauj Ka Saahil
Kahin Toh Jaake Rukega Safinaaye Gham-E-Dil
Jawaan Lahu Ke Pursrar Shaahraao Se Jale Jo Yaar
Toh Daaman Pe Kitane Haath Pade
Dayaare Husn Ki Besabr Khaabgaaho Se
Pukaarati Rahi Baahein, Badan Bulaate Rahe
Bahot Ajij Thi Lekin Lekin Rukhe Sehar Ki Lagan
Bahot Kari Tha Hansinaane Noor Ka Daaman
Subuk Subuk Thi Tamanna, Dabi Dabi Thi Thakan
Suna Hai Ho Bhi Chuka Hai Firaaq-E Julmatu Noor
Suna Hai Ho Bhi Chuka Hai Visaale ManZilon Ka Aam
Badal Chuka Hai Bahot Ehale Dard Ka Dastur
Nishaake Vasl Halaalo Ajaabi Hijr Haraam
Jigar Ki Aag, Najar Ki Umang
Dil Ki Jalan, Kisi Pe Chha Rahi Hijra Ka Kuchh Asar Hi
Nahi
Kaha Se Aayi Nigaare Saba, Kidhar Ko Gayi
Abhi Charaabe Sare Raah Ko Kuchh Khabar Hi Nahi
Giraani Yeh Shab Mein Kabhi Kami Nahi Aayi
Nijaate Dido Dil Ki Ghadi Nahi Aayi
Chale Chalo Ki Woh ManZil Abhi Nahi Aayi
I DON'T KNOW CHI KOM IDIOT HAS TYPED THIS. EVERYTHING IS MISPRONOUNCED..AND OF COURSE WE ALL KNOW IT'S WRITTEN BY FAIZ AHMAD FAIZ.
Comment