میری انکم کا نہ ستیاناس کر
خالہ کی بیٹی ہے گونگی، شکر ہے
اے خدا خالہ کو میری ساس کر
وصل کے اشعار جب بھی میں کہوں
ہنس کے وہ کہتی ہے "مت بکواس کر"
دوست ہیں ہم کیوں لڑیں اس کے لئے؟
وہ تری ہے یا مری، چل ٹاس کر
چیک کرتی ہے وہ ٹھڈے مار کر
صبر کا یہ امتحاں بھی پاس کر
پھول چاہت کا نہیں کھلتا اگر
دل کے گلشن میں تُو پیدا گھاس کر
"نوٹ" اور "پستول" بھی لایا ہوں، سر
تیری مرضی "فیل" کر یا "پاس" کر
سامنے بچوں کے بیگم ڈانٹ مت
میری عزت کا بھی کچھ احساس کر
چیختی رہتی ہے بیگم ہر گھڑی
یا خدا اس کا گلہ حساس کر
فیل ہو کر آ جماعت میں مری
دوستی کا "پاس رکھ" یا "پاس کر"
