Pasted from a Net LINK;
start from here,,,
؟
سائنٹیفک میتھڈ اور مذہب
محمد زاہد صدیق مغل
بعض علمائے کرام اور اکثر دینی مفکرین اپنی گفتگو مضامین میں اسلام کو سائنسی مذہب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جدید سائنس کو خیر جانبدار علم تصور کرتے ہوئے اسے جو حقانیت اسلام اور فروغ اسلام کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ سائنسی طریقہ علم سے قطعاً ناواقف ہیں۔ذیل کے مضمون میں جدید مغربی سائنس کے دعوؤں اور طریقہ علم سے متعلق معلومات مغربی مفکرین کے الفاظ میں پیش کیے گئے ہیں جس سے اس علم کی اصل حقیقت سے واقفیت حاصل ہوتی ہے، ہمارے مفکرین مغربی فلسفے سے قطعاً ناواقف ہیں، لہٰذا وہ سائنس کے منہاج سے واقف نہیں، لیکن اس سے بے حد متاثر ہیں۔ جدید سائنس اپنی اساس میں لادینی، دنیا پرست حاسد اور حریص فطرت رکھتی ہے اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے ساحل جون 2005ء، جولائی 2005ء، اگست ستمبر 2005ءکے شمارے خصوصی طور پر ملاحظہ کیجیے تاکہ جدید مغربی سائنسی ترقی کی اصل حقیقت اور اس کے مقاصد اور اس ترقی کی بنیادوں میں کروڑوں لوگوں کے خون کی کہانی معلوم ہوسکے۔
مغربی سائنس کیا ہے؟
مغربی سائنس کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لیے نہیں کہ اس کا جواب اب تک تلاش نہیں کیا جاسکا بلکہ اس لیے کہ ہم میں سے اکثر و بیشتر لوگ اس کے جواب سے واقف نہیں۔ آج بھی ہمارے مفکرین اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مغربی سائنس ایک غیراقداری [Value Nutral]اور ٹیکنیکل قسم کا علم ہے۔جس کی بنیاد خالصتاً عقل انسانی ہے اور عقل بھی وہ جو آفاقی ہے یہ دعویٰ اپنے تئیں بذات خود محلِ نزاع ہے کہ کیا عقل مقاصد کی ترتیب میں ممد ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں [اس مضمون میں ہم اس سوال سے بحث نہیں کریں گے]۔
حق تک رسائی سائنس کے ذریعے:
کیا روز مرہ زندگی میں سائنس کو دی جانے والی اہمیت سائنس کا منہ بولتا ہوا ثبوت نہیں؟ اور تو اور اب تو ہمارے علمائے اکرام بھی قرآن و سنت کو سائنس سے ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چناں چہ اس قسم کے بیانات آپ پڑھ اور سُن سکتے ہیں کہ قرآن و سنت کی فلاں فلاں بات سائنس کے مطابق ہے لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ قرآن و سنت حق ہیں۔ گویا حق تک رسائی کا حتمی طریقہ سائنس ہی ہے۔اس قسم کی دلیل قائم کرتے ہوئے علمائے کرام یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس طرز استدلال کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ عقل انسانی وحی پر حاکم ہے یعنی عقل کا وحی کے نہیں بلکہ وحی کا عقل کے مطابق ہونا وحی کے حق ہونے کی دلیل ہے اور یہ وہ بات ہے جس کا دعویٰ ہمارے پورے علم کلام میں سوائے معتزلہ کے شاید کسی اور نے نہیں کیا۔ نیز یہ کہ سائنس تو آئے دن اپنے نظریات تبدیل کرلیتی ہے تو کیا اِن نظریات کے بدلنے سے قرآن و سنت کے معانی بھی بدلتے جائیں گے؟
مغربی سائنس آفاقی نوعیت نہیں رکھتی: نئے دور کا مذہب ہے:
اس مضمون کا مقصد ماضی قریب میں ہونے والے اُن مباحث کی تلخیص بیان کرنا ہے جن کے نتیجے میں یہ بات تقریباً پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے کہ سائنس کوئی غیر اقداری اور آفاقی نوعیت کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس کے آفاقی ہونے کے حق میں کوئی عقلی دلیل دی جاسکتی ہے، اس طرح یہ دعویٰ کے سائنس کی بنیاد مشاہدات اور تجربات ہوتے ہیں جن کی مدد سے نظر یات کی صحت کو جانچا جاسکتا ہے غلط دعوے ہیں۔ ایسی ہی یہ کہنا کہ سائنس کوئی ایسا علم ہے جو انسانی تاریخ میں تحلیل کرتا ہوامختلف تہذیبوں سے منتقل ہوتے ہوئے اورہر تہذیب کی صہبا کشید کرتے کرتے آج مغرب تک آپہنچا ہے مغربی سائنس کی مخصوص تاریخ سے ناواقفیت کی علامت ہے۔مغرب کے جدید علمائے سائنس کے مطابق تو سائنس نئے دور کا مذہب ہے جس کا کردار مغربی دنیا میں وہی ہے جو یورپ میں عیسائیت کا ہوا کرتا تھا۔اُن کے خیال میں سائنسی علم کی دوسرے طریقہء علوم پر برتری ثابت کرنے کی کوئی معقول دلیل نہیں ہے اور یہ کہ موجودہ سائنس اگر مغرب میں پروان چڑھی ہے تو اس کی کچھ تاریخی اور معاشرتی وجوہات ہیں جومغرب میں رونما ہوئیں۔ یہ ساری باتیں وہ ہیں جو خود مغربی علمائے سائنس اپنے گھر کی سائنس کے بارے میں کہتے اور لکھتے ہیں ان کی ان باتوں کا جواب مغرب کے وہ علمائے سائنس نہیں دے پاتے جو خود عقل پرستی کے زبردست حامی ہیں۔
سائنس مغرب میں اپنی وقعت کھوچکی ہے:
ایسی صورت حال میں کہ جب سائنسی علم اپنی وقعت خود مغرب میں کھوچکا ہے ہمارے ہاں ایسے مجتہد دین پیدا ہوگئے ہیں جو سائنس کو قرآن اور سنت سے بھی بالا تر معیار خیرو شر مانتے ہیں اور اس بات پر مسلمانوں کو برا بھلا کہتے ہیں کہ انھوں نے سائنسی ترقی مغرب سے پہلے کیوں نہ حاصل کرلی۔ ان کا یہ گریہ وزاری درحقیقت کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ مغربی علوم و فکر سے ناواقفیت اور مغرب کی بظاہر مادی ترقی سے مرعوبیت کی بناءپر ہے چناں چہ اس مضمون میں ہم سائنس کی کہانی خود اُن کے علماءکی زبانی بیان کریں گے۔ہم پوری کوشش کریں گے کہ ہر اہم نظریے کی وضاحت آسان مثالوں کے ذریعے کریں اور ہر قسم کی تلخیص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جہاں تفصیل کی ضرورت ہوگی تلخیص سے کام نہ لیںگے۔ تاکہ بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
سب سے پہلے ہم سائنس کے استقرائی نظریے پر بحث کریں گے ۔ ہم دیکھیں گے کہ ہمارے مجتہدین درحقیقت سائنس کے اسی نظریے سے واقف اور مرعوب ہیں۔اس کے بعد ہم اس نظریے کی تنقید بیان کرکے سائنس کے اُس نظریے کی وضاحت اور تنقید پیش کریں گے جسے کارل پاپر[Popper] سے منسوب کیا جاتا ہے۔پھر ہم سائنس کی ساختی تو جیہہ بیان کرنے والے علماءکے خیالات کی تلخیص بیان کریں گے۔ آخر میں ہم فیئر ا بینڈ کے نظریات کا خلاصہ بیان کریں گے جو در حقیقت ساری بحث کے لیے بمنزل نتیجہ ہوگا۔
علم کی تشکیل وحی کے بغیر ممکن ہے:مغربی دعوی:
چناں چہ بات کا آغاز یہاں سے کیا جاسکتا ہے کہ 17 ویں اور 18 ویں صدی کے مفکرین نے مغرب میں برپاہونے والی مذہب [عیسائیت] اور جدیدیت کی کشمکش کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ علم کی تشکیل وحی کے بغیر خالصتاً عقل کی بنیادوں پر کی جاسکتی ہے۔ اس دعوے کا اصل محرک وہ بے اطمینانی تھی جو ان مفکرین کو مذہب عیسائیت کے ایمانیات سے تھی یعنی انھیں مذہب سے یہ شکایت تھی کہ اس میں ایمان پہلے لایا جاتا ہے اور عقل کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ لہذا انھیں اس بات پر اصرار تھا کہ عقل کو بنیاد بنا کر ایک ایسے علم کی تعمیر کی جاسکتی ہے جو نہ صرف یہ کہ آفاقی ہوگا بلکہ ہر قسم کے ایمانیات، نظریات و مفروضات سے پاک ہوگا۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہے تو پھر وحی کو علم کی بنیاد بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور انسان کو ہر قسم کی مذہبی جکڑبندیوں سے آزاد کرکے ایک ایسے برتر اور اعلیٰ مقصد کے حصول کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے جو سب کی فلاح کا باعث ہوگا۔ ذیل میں ہم اس دعوے کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے دیے گئے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
continued in next posts...
start from here,,,
؟
سائنٹیفک میتھڈ اور مذہب
محمد زاہد صدیق مغل
بعض علمائے کرام اور اکثر دینی مفکرین اپنی گفتگو مضامین میں اسلام کو سائنسی مذہب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جدید سائنس کو خیر جانبدار علم تصور کرتے ہوئے اسے جو حقانیت اسلام اور فروغ اسلام کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ سائنسی طریقہ علم سے قطعاً ناواقف ہیں۔ذیل کے مضمون میں جدید مغربی سائنس کے دعوؤں اور طریقہ علم سے متعلق معلومات مغربی مفکرین کے الفاظ میں پیش کیے گئے ہیں جس سے اس علم کی اصل حقیقت سے واقفیت حاصل ہوتی ہے، ہمارے مفکرین مغربی فلسفے سے قطعاً ناواقف ہیں، لہٰذا وہ سائنس کے منہاج سے واقف نہیں، لیکن اس سے بے حد متاثر ہیں۔ جدید سائنس اپنی اساس میں لادینی، دنیا پرست حاسد اور حریص فطرت رکھتی ہے اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے ساحل جون 2005ء، جولائی 2005ء، اگست ستمبر 2005ءکے شمارے خصوصی طور پر ملاحظہ کیجیے تاکہ جدید مغربی سائنسی ترقی کی اصل حقیقت اور اس کے مقاصد اور اس ترقی کی بنیادوں میں کروڑوں لوگوں کے خون کی کہانی معلوم ہوسکے۔
مغربی سائنس کیا ہے؟
مغربی سائنس کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لیے نہیں کہ اس کا جواب اب تک تلاش نہیں کیا جاسکا بلکہ اس لیے کہ ہم میں سے اکثر و بیشتر لوگ اس کے جواب سے واقف نہیں۔ آج بھی ہمارے مفکرین اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مغربی سائنس ایک غیراقداری [Value Nutral]اور ٹیکنیکل قسم کا علم ہے۔جس کی بنیاد خالصتاً عقل انسانی ہے اور عقل بھی وہ جو آفاقی ہے یہ دعویٰ اپنے تئیں بذات خود محلِ نزاع ہے کہ کیا عقل مقاصد کی ترتیب میں ممد ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں [اس مضمون میں ہم اس سوال سے بحث نہیں کریں گے]۔
حق تک رسائی سائنس کے ذریعے:
کیا روز مرہ زندگی میں سائنس کو دی جانے والی اہمیت سائنس کا منہ بولتا ہوا ثبوت نہیں؟ اور تو اور اب تو ہمارے علمائے اکرام بھی قرآن و سنت کو سائنس سے ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چناں چہ اس قسم کے بیانات آپ پڑھ اور سُن سکتے ہیں کہ قرآن و سنت کی فلاں فلاں بات سائنس کے مطابق ہے لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ قرآن و سنت حق ہیں۔ گویا حق تک رسائی کا حتمی طریقہ سائنس ہی ہے۔اس قسم کی دلیل قائم کرتے ہوئے علمائے کرام یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس طرز استدلال کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ عقل انسانی وحی پر حاکم ہے یعنی عقل کا وحی کے نہیں بلکہ وحی کا عقل کے مطابق ہونا وحی کے حق ہونے کی دلیل ہے اور یہ وہ بات ہے جس کا دعویٰ ہمارے پورے علم کلام میں سوائے معتزلہ کے شاید کسی اور نے نہیں کیا۔ نیز یہ کہ سائنس تو آئے دن اپنے نظریات تبدیل کرلیتی ہے تو کیا اِن نظریات کے بدلنے سے قرآن و سنت کے معانی بھی بدلتے جائیں گے؟
مغربی سائنس آفاقی نوعیت نہیں رکھتی: نئے دور کا مذہب ہے:
اس مضمون کا مقصد ماضی قریب میں ہونے والے اُن مباحث کی تلخیص بیان کرنا ہے جن کے نتیجے میں یہ بات تقریباً پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے کہ سائنس کوئی غیر اقداری اور آفاقی نوعیت کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس کے آفاقی ہونے کے حق میں کوئی عقلی دلیل دی جاسکتی ہے، اس طرح یہ دعویٰ کے سائنس کی بنیاد مشاہدات اور تجربات ہوتے ہیں جن کی مدد سے نظر یات کی صحت کو جانچا جاسکتا ہے غلط دعوے ہیں۔ ایسی ہی یہ کہنا کہ سائنس کوئی ایسا علم ہے جو انسانی تاریخ میں تحلیل کرتا ہوامختلف تہذیبوں سے منتقل ہوتے ہوئے اورہر تہذیب کی صہبا کشید کرتے کرتے آج مغرب تک آپہنچا ہے مغربی سائنس کی مخصوص تاریخ سے ناواقفیت کی علامت ہے۔مغرب کے جدید علمائے سائنس کے مطابق تو سائنس نئے دور کا مذہب ہے جس کا کردار مغربی دنیا میں وہی ہے جو یورپ میں عیسائیت کا ہوا کرتا تھا۔اُن کے خیال میں سائنسی علم کی دوسرے طریقہء علوم پر برتری ثابت کرنے کی کوئی معقول دلیل نہیں ہے اور یہ کہ موجودہ سائنس اگر مغرب میں پروان چڑھی ہے تو اس کی کچھ تاریخی اور معاشرتی وجوہات ہیں جومغرب میں رونما ہوئیں۔ یہ ساری باتیں وہ ہیں جو خود مغربی علمائے سائنس اپنے گھر کی سائنس کے بارے میں کہتے اور لکھتے ہیں ان کی ان باتوں کا جواب مغرب کے وہ علمائے سائنس نہیں دے پاتے جو خود عقل پرستی کے زبردست حامی ہیں۔
سائنس مغرب میں اپنی وقعت کھوچکی ہے:
ایسی صورت حال میں کہ جب سائنسی علم اپنی وقعت خود مغرب میں کھوچکا ہے ہمارے ہاں ایسے مجتہد دین پیدا ہوگئے ہیں جو سائنس کو قرآن اور سنت سے بھی بالا تر معیار خیرو شر مانتے ہیں اور اس بات پر مسلمانوں کو برا بھلا کہتے ہیں کہ انھوں نے سائنسی ترقی مغرب سے پہلے کیوں نہ حاصل کرلی۔ ان کا یہ گریہ وزاری درحقیقت کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ مغربی علوم و فکر سے ناواقفیت اور مغرب کی بظاہر مادی ترقی سے مرعوبیت کی بناءپر ہے چناں چہ اس مضمون میں ہم سائنس کی کہانی خود اُن کے علماءکی زبانی بیان کریں گے۔ہم پوری کوشش کریں گے کہ ہر اہم نظریے کی وضاحت آسان مثالوں کے ذریعے کریں اور ہر قسم کی تلخیص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جہاں تفصیل کی ضرورت ہوگی تلخیص سے کام نہ لیںگے۔ تاکہ بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
سب سے پہلے ہم سائنس کے استقرائی نظریے پر بحث کریں گے ۔ ہم دیکھیں گے کہ ہمارے مجتہدین درحقیقت سائنس کے اسی نظریے سے واقف اور مرعوب ہیں۔اس کے بعد ہم اس نظریے کی تنقید بیان کرکے سائنس کے اُس نظریے کی وضاحت اور تنقید پیش کریں گے جسے کارل پاپر[Popper] سے منسوب کیا جاتا ہے۔پھر ہم سائنس کی ساختی تو جیہہ بیان کرنے والے علماءکے خیالات کی تلخیص بیان کریں گے۔ آخر میں ہم فیئر ا بینڈ کے نظریات کا خلاصہ بیان کریں گے جو در حقیقت ساری بحث کے لیے بمنزل نتیجہ ہوگا۔
علم کی تشکیل وحی کے بغیر ممکن ہے:مغربی دعوی:
چناں چہ بات کا آغاز یہاں سے کیا جاسکتا ہے کہ 17 ویں اور 18 ویں صدی کے مفکرین نے مغرب میں برپاہونے والی مذہب [عیسائیت] اور جدیدیت کی کشمکش کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ علم کی تشکیل وحی کے بغیر خالصتاً عقل کی بنیادوں پر کی جاسکتی ہے۔ اس دعوے کا اصل محرک وہ بے اطمینانی تھی جو ان مفکرین کو مذہب عیسائیت کے ایمانیات سے تھی یعنی انھیں مذہب سے یہ شکایت تھی کہ اس میں ایمان پہلے لایا جاتا ہے اور عقل کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ لہذا انھیں اس بات پر اصرار تھا کہ عقل کو بنیاد بنا کر ایک ایسے علم کی تعمیر کی جاسکتی ہے جو نہ صرف یہ کہ آفاقی ہوگا بلکہ ہر قسم کے ایمانیات، نظریات و مفروضات سے پاک ہوگا۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہے تو پھر وحی کو علم کی بنیاد بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور انسان کو ہر قسم کی مذہبی جکڑبندیوں سے آزاد کرکے ایک ایسے برتر اور اعلیٰ مقصد کے حصول کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے جو سب کی فلاح کا باعث ہوگا۔ ذیل میں ہم اس دعوے کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے دیے گئے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
continued in next posts...

Comment