Announcement

Collapse
No announcement yet.

’پاکستان میں ظلم ہوتا ہے‘

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • ’پاکستان میں ظلم ہوتا ہے‘

    پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آکر بسنے والے ہندوؤں کو بھی کم مشکلات کا سامنا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود واپس جانے کا خیال ان کے ذہن میں نہیں آتا۔
    دلی کی مصروف رنگ روڈ کے قریب مجنو کےٹیلے پر بھی پانچ چھ ہندؤ کنبوں نے ایک آشرم میں اپنے خیمے گاڑ رکھے ہیں۔ ایک نئی زندگی کے آغاز میں آنے والی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’ہم جنت میں ہیں ۔۔۔ ہماری زندگی تو گئی لیکن ہم اپنے بچوں کی زندگی سنوارنا چاہتے ہیں۔‘
    اسی بارے میں
    ہندو برادری کی شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹی کا قیام
    ’پناہ نہیں مل سکتی شہریت مل سکتی ہے‘
    سندھ:’بھارت ہجرت کرنے کی خبروں پر نوٹس‘
    متعلقہ عنوانات
    بھارت, پاکستان
    راجہ کی عمر تقریباً تیس سال ہے اور وہ اپنی بیوی پاروتی اور تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں رہتے ہیں۔ دو فولڈنگ بیڈ، ایک پنکھا اور تھوڑا بہت ضرورت کا سامان، یہ ان کی زندگی کا کل سرمایہ ہے۔
    وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہندوؤں کو برابری کا درجہ حاصل نہیں ہے اس لیے انہوں نے ہندوستان آنے کا فیصلہ کیا۔
    "وہاں ہمارا مذہب نہیں ہے اس لیے ہم پاکستان کو چھوڑ کر آئے ہیں۔۔۔وہاں بہت کٹر لوگ ہیں، ہندوؤں کو پریشان کرتےہیں، نیچ قوم سمجھتے ہیں، ہماری لڑکیوں کی آبرو ریزی ہوتی ہے، یہاں ہم جنت میں ہیں۔"
    راجہ
    ’وہاں ہمارا مذہب نہیں ہے اس لیے ہم پاکستان کو چھوڑ کر آئے ہیں۔۔۔وہاں بہت کٹر لوگ ہیں، ہندوؤں کو پریشان کرتے ہیں، نیچ قوم سمجھتے ہیں، ہماری لڑکیوں کی آبرو ریزی ہوتی ہے، یہاں ہم جنت میں ہیں۔‘
    راجہ اور ان کے ساتھ آنے والے دوسرے نوجوان چھوٹے موٹے کام کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔ حکومت نے انہیں فی الحال ہندوستان میں رہنے کی اجازت تو دیدی ہے لیکن ان کے پاس مقامی دستاویزات نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں مل پاتا۔
    لیکن ان کےکام کاج کرنے اور کہیں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ لوگ پھل سبزیاں بیچتے ہیں اور ڈھائی سو تین سو روپے روزانہ کما لیتے ہیں۔
    راجہ کے ساتھی کرشن کا ماننا ہے کہ بڑی تعداد میں ہندو پاکستان سے ہجرت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہندوستان کی حکومت ویزا جاری کرنے میں پریشان کرتی ہے۔
    وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں لوگ اسی طرح تڑپ رہے ہیں جیسے پانی کے بغیر مچھلی ۔۔۔ وہ یہاں آکر بسنا چاہتے ہیں لیکن ویزا ملنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔‘
    پاکستان میں صدر آصف علی زردای کے حکم پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سندھ میں ہندوؤں کو درپیش مسائل کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے گی۔
    "میرے والدین بھی آنا چاہتے ہیں لیکن ویزے کا مسئلہ ہے ۔۔۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اچھی جگہ ہے، یہیں آجاؤ ۔۔۔ ماں باپ ہیں ان کی یاد تو آتی ہے۔۔۔"
    پاروتی
    یہاں ہندوستان میں بھی پارلیمان میں کئی مرتبہ یہ مطالبہ کیا جاگیا ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کو پاکستان سے بات کرنی چاہیے۔
    لیکن حکومت کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، وہاں کی حکومت سے تشویش کا اظہار تو کیا گیا ہے لیکن اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔
    پاکستانی ہندو اکثر یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ انہیں بھارتی حکومت سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔
    لیکن مجنو کے ٹیلے پر راجہ اور ان کی اہلیہ پاروتی کو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے۔ پاروتی ابھی ہندی نہ ٹھیک سےسمجھتی ہیں اور نہ بول پاتی ہیں۔ ٹیلی فون پر اپنے والدین سے بات کرتی رہتی ہیں جو ابھی حیدرآباد میں ہی ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ ’وہ بھی آنا چاہتے ہیں لیکن ویزے کا مسئلہ ہے ۔۔۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اچھی جگہ ہے، یہیں آجاؤ ۔۔۔ ماں باپ ہیں ان کی یاد تو آتی ہے۔۔۔‘
    لیکن ہر سوال کے جواب میں جس انداز میں وہ کھل کر ہنستی ہیں، ایسا نہیں لگتا کہ واپس جانے کا خیال کبھی ان کے ذہن میں آتا ہوگا۔



  • #2
    وہاں ہمارا مذہب نہیں ہے اس لیے پاکستان چھوڑ آئے

    Comment


    • #3
      اقلیتوں کا قومی دن، مزید ’ہندو یاتری‘ بھارت روانہ

      پاکستانی ہندوؤں کے بھارت جانے کا سلسلہ سینچر کے روز بھی جاری رہا اور مزید ایک سو سے زائد ہندو یاتری واہگہ سرحد سے بھارت روانہ ہوئے۔ بھارت جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور ان کے پاس ایک مہینے کا ویزہ ہے۔
      سینچر کے روز ایک سو چار پاکستانی ہندو بھارت روانہ ہوئے۔ دو دن کے مختصر عرصے میں اب تک دو سو انیس پاکستانی ہندو بھارت روانہ ہوئے ہیں۔
      متعلقہ عنوانات
      پاکستان, بھارت
      گزشتہ روز دو سو سے زائد ہندو بھارت جانے لیے واہگہ سرحد پر پہنچے تھے۔ تاہم سرحد عبور کرنے کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے احتجاج کیا جس پر ایک سو پندرہ ہندوؤں کو بھارت جانے کی اجازت مل گئی اور ایک سو سے زائد ہندو بھارت روانہ نہ ہوسکے۔
      بھارت جانے والے ان ہندوں کا کہنا ہے کہ وہ نقل مکانی نہیں کر رہے بلکہ یاترا کے لیے بھارت جا رہے ہیں اور ویزے کے معیاد مکمل ہونے پر واپس لوٹ آئیں گے۔
      ادھر آج سرکاری طور پر پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن منایا گیا۔ گیارہ اگست کو اس لیے اقلتیوں کے قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا کیوں کہ اسی روز سنہ انیس سو سنتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناع نے پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا تمام شہریوں کو مساوی حثیت حاصل ہوگی اور کو کسی بھی مذہبی عقیدت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
      اس موقع پر وفاقی حکومت نے ہندو شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے ایک تین رکنی ٹیم تشکیل دینے کی اعلان کیا ہے جو سنیچر کو سکھر میں ہندو برادری کے عمائدین سے ملاقات کرے گی۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو، سینیٹر ہری رام کشوری لال اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر لال چند شامل ہیں۔
      صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر نے سندھ میں بسنے والے ہندوؤں میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کے بارے میں پاکستان میڈیا میں آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے یہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ترجمان کے مطابق کمیٹی ہندو عمائدین سے یکجہتی کا اظہار کرے گی اور حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کا یقین دلائے گی۔

      رحمان ملک نے ہندوؤں کی نقل مکانی کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا تھا
      انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بدامنی اور شدت پسندی کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کے افراد بھارت ہجرت کررہے ہیں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان نے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کا واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اقلیتیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔
      ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں سے بات چیت کرتے ہوئے ملک سے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
      انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے اور سندھ اور بلوچستان میں خاص کر یہ رجحان شروع ہوا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ہندو برادری کے لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی تھی اور ان کا یہی کہنا تھا کہ وہاں ہندو برادری کے کئی تاجر اغوا ہو رہے ہیں اور کئی واقعات میں انہوں نے تاوان بھی ادا کیا لیکن پھر بھی مغویوں کو مار دیا گیا۔‘
      زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کے مطابق بلوچستان سے اب تک پچاس خاندان جا چکے ہیں۔
      خیال رہے کہ دو روز پہلے ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسی رپورٹس منظرعام پر آئیں تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد سے کئی ہندو عدم تحفظ کے باعث مستقل طور پر بھارت منتقل ہورہے ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ بیان بھی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا جس میں انھوں نے ہندوؤں کی نقل مکانی کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا تھا


      Comment

      Working...
      X