Announcement

Collapse
No announcement yet.

علامات ظہور مہدی علیہ الرضوان

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • علامات ظہور مہدی علیہ الرضوان





    علامات ظہور مہدی علیہ الرضوان


    امام مہدی کے ظہور کی بہت سی علامات ہیں لیکن یہاں ان میں سے چند ایک کو ہی بیان کیا جاۓ گا جن میں سے گو کہ بعض کی اسناد ضعیف ہیں پھر بھی اکثر کے شواہد معتبر احادیث سے مل جاتے ہیں...

    علامت نمبر ١

    امام مہدی کے پاس حضور صلی الله علیہ وسلم کی قمیض مبارک اور جھنڈا ہوگا جس سے ان کی شناخت ہو سکے گی چنانچہ علامہ سید برزنجی رحمتہ الله تحریر فرماتے ہیں :

    امام مہدی کے پاس حضور صلی الله علیہ وسلم کی قمیض مبارک ، تلوار مبارک ، اور سیاہ رنگ کا ریشمی روئیں دار جھنڈا ہوگا اور وہ جھنڈا بندش کی وجہ سے حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے لے کر ظہور مہدی سے قبل نہیں پھیلایا جا سکا ہوگا ، اور اس جھنڈے پر یہ الفاظ لکھے ہوں گے "البیعتہ لله"_ الاشاعہ: صفحہ ١٩٨

    علامت نمبر ٢

    اسی طرح حضرت امام مہدی کی تائید و تصدیق کے لیے ان کے سر پر ایک بادل سایہ فگن ہوگا جس میں سے ایک منادی کی یہ آواز آرہی ہوگی: "یہ الله کے خلیفہ مہدی ہیں لہذا ان کی اتباع کرو"_
    اور اس بادل میں سے ایک ہاتھ نکلے گا جو امام مہدی کی طرف اشارہ کرے گا کہ یہی مہدی ہیں ان کی بیعت کرو_الاشاعہ: صفحہ ١٩٨

    اور کتاب الفتن میں اسی سے متعلق ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں یعنی آسمان سے ندا اس طرح آئے گی، " تم پر فلاں کی اتباع لازم ہے اور اس کی نشاندہی کے لیے ایک ہاتھ ظاہر ہوگا جو ان کی طرف اشارہ کرتا ہوگا"_ کتاب الفتن ؛صفحہ ٢٣٦
    جب کہ حضرت ابن عمر رضی الله کی ایک روایت کے مطابق "امام مہدی کے سر پر ایک فرشتہ ہوگا جو یہ ندا کرتا ہوگا کہ یہ الله کے خلیفہ مہدی ہیں لہذا ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو_" آثار القیامہ : صفحہ ٣٦٦

    علامت نمبر ٣ _٤

    امام مہدی کی شناخت کے لیے حضرت علی رضی الله سے مروی ہے کہ امام مہدی ایک پرندے کی طرف اشارہ کریں گے وہ آپ کے سامنے آکر گر پڑے گا اور ایک درخت کی شاخ توڑ کر زمین میں گاڑیں گے تو وہ اسی وقت سرسبز ہو کر برگ و بار لانے لگے گی_ آثار القیامہ : صفحہ ٣٦٦

    سید برزنجی نے بھی اس علامت کا ذکر کیا ہے لیکن ان کے بیان سے یہ دو الگ الگ علامتیں ثابت ہوتی ہیں چنانچہ مندرجہ ذیل عبارت میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے _
    "اور ان علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ مہدی خشک بانس زمین میں گاڑیں گے تو وہ اسی وقت سرسبز ہو کر برگ و بار لانے لگے گا اور ایک علامت یہ ہے کہ مہدی سے نشانی کا مطالبہ کیا جاۓ گا تو وہ اپنے ہاتھ سے فضا میں اڑتے ہووے ایک پرندے کی طرف اشارہ کریں گے تو وہ ان کے سامنے آکر گرے گا"_ الاشاعہ: صفحہ ١٩٨

    علامت نمبر ٥

    حضرت امام مہدی کی شناخت کے لیے ایک علامت یہ بھی ہوگی کہ ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر روانہ ہوگا اور جب وہ لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان پہنچے گا تو اس پورے لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جاۓ گا جیسا کہ عنقریب بالتفصیل آتا ہے _

    مقام بیدا میں لشکر کے زمین میں دھنس جانے کی روایات امام مسلم اور امام ابن ماجہ دونوں نے تخریج کی ہیں_ حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو _
    مسلم شریف حدیث نمبر ٧٢٤٠ تا ٧٢٤٤ ، ابن ماجہ

    فائدہ

    سفیانی اور اس کے لشکر کے متعلق آپ پوری تفصیلات عنقریب پڑھیں گے کہ وہ حضرت ابو سفیان رضی الله
    کی اولاد میں سے ایک اموی شخص ہوگا جس سے اسلام اور مسلمانوں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا ، اس کے زمانے میں مسلمانوں کا بالعموم اور علما و فضلا کا بالخصوص قتل عام ہوگا لیکن یہ فتنہ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا کیوں کہ حضرت امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہوگا جس کی علامت یہ ہوگی کہ سفیانی بیت الله کو منہدم کرنے کی نیت سے روانہ ہوگا لیکن جب یہ اپنے لشکر سمیت بیدا نامی جگہ جو حرمین کے درمیان ہے پہنچے گا تو پورا لشکر زمین میں دھنسا دیا جاۓ گا. اس سلسلے میں حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی تحریر فرماتے ہیں:
    "اس لشکر کا زمین میں دھنسنا فتنہ سفیانی کی نشانی ہوگی اور سفیانی کا خروج دراصل امام مہدی کے ظہور کی علامت ہوگا اور اس سلسلے میں بہت سی احادیث تواتر معنوی کے ساتھ وارد ہوئی ہیں"_ التعلیق الصبیح جلد ٦ صفحہ ٢٠٠

    اور اس پورے لشکر میں سے صرف ایک شخص زندہ بچے گا جو لوگوں کو آکر لشکر کے زمین میں دھنس جانے کی خبر دے گا چنانچہ حضرت کاندھلوی ہی تحریر فرماتے ہیں: "ان لوگوں میں سے صرف ایک مخبر زندہ بچے گا"_ حوالہ بالا

    لیکن اس روایت میں ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس خروج سفیانی کے متعلق یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ مغرب سے خروج کرے گا جب کہ طبرانی نے اپنی کتاب الاوسط میں حضرت ام حبیبہ رضی الله سے اس سلسلے کی روایت ذکر کی ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ وہ مشرق سے خروج کرے گا اور یہ بظاہر تضاد ہے-

    سید برزنجی نے اس تعارض کو دور کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کی تاویل یوں کی جا سکتی ہے کہ سفیانی کی طرف سے بھیجا جانے والا لشکر روانہ تو عراق (مغرب) سے ہوگا لیکن چوں کہ اس لشکر میں اہل شام بھی ہوں گے اس لیے ان کی طرف نسبت کرتے ہووے بعض مقامات پر اس لشکر کو شامی (مشرقی) که دیا گیا ہے_ الاشاعہ صفحہ ٢٠٨ ، اور حضرت کاندھلوی نے بھی التعلیق الصبیح جلد ٦ صفحہ ٢٠١ پر تقریباً یہی تحریر فرمایا ہے _

    یہی نہیں کہ امام مہدی کے ظہور سے قبل صرف سفیانی کا خروج ہوگا بل کہ بہت سے اور لوگ بھی خروج کریں گے چناں چہ کچھ لوگ مصر سے خروج کریں گے ، کچھ مغربی جانب سے اور کچھ جزیرہ العرب سے _ گویا اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کفر پوری قوت سے مسلمانوں کے ساتھ نبرد آزما ہوگا اور چہار اطراف سے مرکز عالم اور مرکز اسلام خانہ کعبہ پر حملے کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی اور اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد امام مہدی کا ظہور ہو جاۓ گا _

    علامت نمبر ٦

    حضرت امام مہدی کے ظہور کی ایک اور علامت جو ان کی تائید کے لیے بطور مہر تصدیق کے ظاہر کی جاۓ گی اور ان کی شناخت میں کسی کو شبہ اور تردد نہیں رہے گا یہ ہوگی کہ آسمان سے منادی امام مہدی کا نام لے کر لوگوں کو ان کے ساتھ جا ملنے اور ان کی مدد کرنے کی طرف ابھارے گا_ چناں چہ سید برزنجی تحریر فرماتے ہیں: "اور ان علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آسمان سے ایک منادی آواز دے گا کہ اے لوگو الله نے ظالموں منافقوں اور ان سے محبت رکھنے والوں سے تمہیں نجات دی اور امت محمدیہ کا بہترین فرد تم پر امیر مقرر کیا لہٰذا اب تم مکہ مکرمہ جا کر اس سے مل جاؤ وہ مہدی ہیں اور ان کا نام احمد بن عبدللہ ہے اور ایک روایت میں ان کا نام محمد بن عبدللہ مذکور ہے"_ الاشاعہ صفحہ ١٩٨ ، صفحہ ٢٠٩

    علامت نمبر ٧

    زمین سونے کے ستونوں کی طرح اپنے جگر کے ٹکڑے باہر نکال دے گی_ الاشاعہ صفحہ ١٩٨ ، ترمذی ٢٢٠٨

    سید برزنجی نے اپنی اسی کتاب کے صفحہ ٢٤١ پر سونے اور چاندی کے ستونوں کا ذکر بھی کیا ہے اور یہی صحیح ہے کیوں کہ حضرت عبدللہ بن مسعود رضی الله سے مروی روایت میں سونے اور چاندی کے ستونوں ہی کا ذکر ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: " حضرت عبدللہ بن مسعود رضی الله فرماتے ہیں کہ یہ دین مکمل ہو چکا اور اب یہ نقصان کی طرف جاۓ گا جس کی علامت یہ ہوگی کہ قطع رحمی ، لوگوں کا مال ناحق لے لینا اور خون بہانا عام ہو جاۓ گا ، قرابت دار بیمار ہوگا لیکن کوئی اس کی عیادت کرنے نہ جاۓ گا ، سائل بار بار چکر لگاۓ گا لیکن کوئی اس کے ہاتھ پر کچھ نہ رکھے گا _ اس دوران زمین سے گاۓ کی آواز کی طرح آواز نکلے گی ، تمام لوگ اس سوچ میں پڑ جائیں گے کہ اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے ؟ اسی اثنا میں زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونے اور چاندی کے ستون نکال باہر پھینکے گی لیکن اب یہ سونا چاندی کسی کو کچھ نفع نہ دے گا"_ الاشاعہ صفحہ ٢٤١

    علامت نمبر ٨

    لوگوں کے دل غنی ہو جائیں گے اور زمین کثرت سے اپنی برکتوں کا ظہور کرے گی _ الاشاعہ صفحہ ١٩٨

    علامت نمبر ٩

    امام مہدی خانہ کعبہ میں مدفون خزانہ نکال کر اس کو فی سبیل الله تقسیم کر دیں گے _ الاشاعہ صفحہ ١٩٩

    علامت نمبر ١٠

    حضرت امام مہدی کے زمانے میں اکثر یہودی مسلمان ہو جائیں گے جس کی وجہ یہ ہوگی کہ امام مہدی کو تابوت سکینہ مل جاۓ گا جس کے ساتھ یہودیوں کے بڑے اعتقادات وابستہ ہیں اس لیے وہ اس تابوت کو حضرت امام مہدی کے پاس دیکھ کر مسلمان ہو جائیں گے _ الاشاعہ صفحہ ١٩٩

    علامت نمبر ١١

    جس طرح حضرت موسیٰ علیہ سلام کے لیے انفلاق بحر ہوا تھا بعینہ اسی طرح حضرت امام مہدی کے زمانے میں انفلاق بحر ہوگا_ الاشاعہ صفحہ ١٩٩

    علامت نمبر ١٢

    مغرب کی طرف سے کئی جھنڈوں کا نمودار ہونا اور اس لشکر کا سردار قبیلہ کندہ کا ایک آدمی ہوگا چناں چہ نعیم بن حماد نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ، ترجمہ: " امام مہدی کے ظہور کی علامت وہ چند جھنڈے ہیں جو مغرب کی طرف سے آئیں گے اور ان کا سردار قبیلہ کندہ کا ایک لنگڑا شخص ہوگا"_ کتاب الفتن صفحہ ٢٣٠ (افغانستان پر حملہ آور صلیبی متحدہ افواج کا سربراہ کینیڈا کا ایک لنگڑا جنرل تھا)...

    علامت نمبر ١٣

    نعیم بن حماد روایت کرتے ہیں: ترجمہ " امام مہدی کا ظہور اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ علانیہ الله کے ساتھ کفر نہ کیا جانے لگے" _ کتاب الفتن صفحہ ٢٣١

    علامت نمبر ١٤

    ایک اور روایت کا مفہوم ہے کہ حضرت امام مہدی کے ظہور سے قبل قتل و غارت گری اس قدر عام ہو جاۓ گی کہ ہر نو میں سے سات افراد قتل ہو جائیں گے_ کتاب الفتن صفحہ ٢٣١

    علامت نمبر ١٥

    ظہور امام مہدی سے قبل لوگوں میں افلاس و تنگدستی اس قدر پھیل جاۓ گی کہ ایک آدمی انتہائی خوبصورت لونڈی کو اس کے وزن کے برابر غلہ میں بیچنے کے لیے تیار ہو جاۓ گا جیسا کہ کتاب الفتن صفحہ ٢٣٢ پر اس قسم کی روایت موجود ہے_

    علامت نمبر ١٦

    حضرت امام مہدی کی تصدیق و تائید اور امت مسلمہ کی عزت و شرافت اور اس کی عنداللہ مقبولیت کی سب سے اہم دلیل وہ نماز ہوگی جو حضرت عیسی علیہ سلام حضرت امام مہدی کی اقتدا میں ادا فرمائیں گے_ بخاری شریف ٣٤٤٩ ، مسلم ٣٩٢
    لیکن اس سے حضرت عیسی علیہ سلام کے منصب و نبوت پر کوئی حرف نہیں آئے گا اور یہ ایسے ہی ہوگا جیسے نبی علیہ سلام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله کی اقتدا میں نماز ادا کی_

    علامت نمبر ١٧

    علامہ سیوطی نے الحاوی للفتاوی میں حضرت حذیفہ رضی الله سے روایت کیا ہے کہ نبی علیہ سلام نے فرمایا، ترجمہ : "اگر دنیا کی مدت ختم ہونے میں صرف ایک دن بچے گا تب بھی الله ایک آدمی بھیج کر رہے گا جو نام اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہوگا اور اس کی کنیت ابو عبدللہ ہوگی"_ الحاوی جلد ٢ صفحہ ٧٦

    علامت نمبر ١٨

    ظہور امام مہدی کی علامت کے طور پر "دریاۓ فرات کا پانی ختم ہو جاۓ گا اور اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہوگا"_ الاشاعہ صفحہ ١٩٩
    چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله سے مروی ہے ، ترجمہ : "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریاۓ فرات کا پانی ختم ہو کر اس میں سے سونے کا پہاڑ نہ ظاہر ہو جاۓ ، لوگ اس کے حصول کے لیے اتنا لڑیں گے کہ ہر دس میں سے نو آدمی قتل ہو جائیں گے"_ الاشاعہ صفحہ ٢٣٩
    اس حدیث سے ملتے جلتے الفاظ بخاری ، مسلم اور ابو داؤد میں بھی ملتے ہیں_ بخاری ٧١١٩ ، مسلم ٧٢٧٤ ، ابو داؤد ٤٣١٣ ، ابن ماجہ ٤٠٤٦ ، اس موضوع کی احادیث آپ مسلم میں مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دیکھ سکتے ہیں_ احادیث نمبر ، ٧٢٧٢ ، ٧٢٧٣ ، ٧٢٧٥ ، ٧٢٧٦

    علامت نمبر ١٩

    حضرت امام مہدی کے ظہور کی ایک عجیب و غریب علامت جو کہ سائنسی نقطۂ نظر کے بالکل خلاف ہوگی کہ جس سال ان کا ظہور ہوگا اس کے رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور اسی رمضان کی پندرہ تاریخ کو سورج گرہن ہوگا اور یہ دونوں چیزیں تخلیق کائنات سے لے کر اب تک اس طرح ظہور پذیر نہیں ہوئیں کہ کسی مہینے کی پہلی رات کو چاند گرہن ہو اور پھر اس کی پندرہ تاریخ کو سورج گرہن ہو جاۓ کیوں کہ سائنسی نقطۂ نظر اور جدید فلکیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی مہینے کی ١٣ ، ١٤ ، ١٥ تاریخوں کے علاوہ چاند گرہن ممکن نہیں _
    اور اتفاق کی بات ہے کہ ١٤٢٣ھ کے رمضان المبارک میں چاند اور سورج گرہن کا واقعہ پیش آچکا ہے لیکن اس کی نوعیت یہ تھی کہ چاند گرہن نصف رمضان کو اور سورج گرہن آخر رمضان کو ہوا اور یہ فلکیات کی رو سے ممکن ہے اور اس سے قبل بھی کئی مرتبہ رمضان میں کسوف اور خسوف ہوا ہے لیکن مذکورہ بالا علامت کے طور پر نہ ہونے کی وجہ سے ظہور مہدی کی علامت پوری نہ سکی کیوں کہ یہ دونوں علامتیں ایسی ہیں کہ تخلیق کائنات سے لے کر اب تک ان کا ظہور نہیں ہو سکا_
    مشہور ماہر فلکیات اور جامعہ اشرفیہ کے سابق شیخ الحدیث مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی اپنی کتاب "فلکیات جدیدہ" میں "سیروس" کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: " قدیم ہیت کے ماہرین نے کسوف و خسوف کے اوقات کے انضباط کے لیے ایک ضابطہ وضع کیا ہے اسے سیروس کہتے ہیں یہ آج تک مسلم و صحیح سمجھا جاتا ہے وہ ضابطہ یہ ہے کہ اگر آج کسوف یا خسوف ہو تو ٣ ، ٦٥٨٥ ایام کے بعد باالفاظ دیگر ١٨ سال ١١/١/٣ دن کے بعد پھر اس کا اعادہ ہوگا البتہ سابقہ مقام پر ان کا نظر آنا ضروری نہیں. خسوف و کسوف کی تاخیر کا اوسط ٨ گھنٹہ ہے ، لہذا تین دورہ سیروس کے بعد وہ پھر تقریباً انہی مقامات پر نظر آئیں گے"_ فلکیات جدیدہ صفحہ ٢٣٧
    یہ ضابطہ لکھنے کے بعد حضرت نے "خسوف قمر کی تشریح" کا عنوان قائم کر کے تحریر فرمایا ہے کہ : " سابقہ بیان سے واضح ہوا کہ خسوف ایام استقبال یعنی ١٥،١٤،١٣ تاریخوں کے علاوہ ناممکن ہے"_ فلکیات جدیدہ صفحہ ٢٣٨

    بعض حضرات کو امام مہدی کے ظہور کی اس علامت میں تردد پیش آیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس کا انکار کر دیا ہے چناں چہ ماہنامہ البلاغ کے شمارہ صفر المظفر ١٤٢٤ھ میں مولانا عمر فاروق لوہاروی کا ایک مضمون " کیا ظہور مہدی ٢٠٠٤ میں ؟" کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس میں موصوف نے اس بات کی پرزور اور مدمل تردید کی ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے لیے ماہ و سن کی تعیین درست نہیں. یہاں تک تو بات صحیح تھی لیکن آگے موصوف اس تردید میں ماہرین فلکیات کی راۓ پیش کر کے جو بات سمجھے ہیں درحقیقت اس میں انہیں اشتباہ ہوا ہے-
    چناں چہ موصوف فنی اعتبار سے گھن والی روایت پر بحث کرتے ہووے لکھتے ہیں : " مذکورہ فنی وجوہ کی وجہ سے یہ روایت پایۂ اعتبار سے گر جاتی ہے اس لیے ظہور مہدی جیسے اہم مسلہ کے لیے اس کو بطور دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا ہے اور نہ اس سے یہ عقیدہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مہدی کے وقت میں ایسے گہنوں کا ہونا ضروری ہے اور وہ گہن ظہور حضرت مہدی کی علامت ہیں"_ البلاغ صفحہ ٣٦

    موصوف کی یہ عبارت اس قدر واضح ہے کہ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں اور ان کا مدعا واضح ہے کہ اس سورج گرہن اور چاند گرہن کو ظہور مہدی کی علامت نہیں قرار دیا جا سکتا حالاں کہ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے لیے ماہ و سن کی تعیین درست نہیں لیکن سرے سے اس علامت کا انکار کر دینا ناروا ہے جو آغاز تخلیق سے لے کر اب تک رونما ہی نہیں ہوئی جیسا کہ یہ بات پیچھے بیان ہوئی اور علامت تو ہوتی ہی خلاف عادت اور خرق عادت کے طور پر ہے_

    علامت نمبر ٢٠

    صرف یہی نہیں کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت چاند گرہن ایک مرتبہ ہوگا بل کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال رمضان کے مہینے میں دو مرتبہ چاند گرہن ہوگا ، ایک مرتبہ تو رمضان کی پہلی رات میں ہوگا اور دوسرا اس کے علاوہ ہوگا اور ایک مہینے میں کئی مرتبہ گرہن ہونا جدید فلکیات کی رو سے ناممکن نہیں_

    علامت نمبر ٢١

    حضرت امام مہدی کے ظہور کے وقت ایک اور آسمانی علامت کا ظہور ہوگا چناں چہ سید برزنجی تحریر فرماتے ہیں : " اور ان علامات میں سے یہ بھی ہے کہ ایک روشن دم دار تارا ظاہر ہوگا" الاشاعہ صفحہ ١٩٩
    حسب بیان سید موصوف اس کا وقوع ہو چکا ہے لیکن ایک دفعہ وقوع سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ دوبارہ اس کا وقوع نہ ہوگا اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دم دار تارا کوئی الگ نوعیت کا ہو_

    علامت نمبر ٢٢

    مشرق کی طرف سے انتہائی عظیم آگ کا تین یا سات راتوں تک مسلسل ظاہر رہنا بھی علامات ظہور مہدی میں شمار کیا گیا ہے _ الاشاعہ صفحہ ١٩٩

    علامت نمبر ٢٣

    آسمان پر انتہائی گھٹا توپ تاریکی کا چھا جانا _ الاشاعہ صفحہ ٢٠٠

    علامت نمبر ٢٤

    آسمان کا انتہائی سرخ ہو جانا اور اس سرخی کا افق پر پھیل جانا_ الاشاعہ صفحہ ٢٠٠
    یاد رہے کہ افق کی یہ سرخی عام معمول کی سرخی نہیں ہوگی بل کہ اس سے ہٹ کر ہوگی نیز سیاہی اور سرخی کا چھا جانا دو الگ الگ وقتوں میں ہوگا نہ کہ ایک ہی وقت میں_

    علامت نمبر ٢٥

    آسمان سے ایک ایسی آواز کا آنا جو تمام اہل زمین سن لیں گے اور عجیب تر بات یہ ہوگی کہ وہ آواز ہر زبان والے کو اس کی اپنی زبان میں سنائی دے گی _ الاشاعہ صفحہ ٢٠٠

    علامت نمبر ٢٦

    شام کی "حرستا" نامی بستی کو زمین میں دھنسا دیا جاۓ گا_ الاشاعہ صفحہ ٢٠٠
    اس سلسلے میں سید برزنجی نے ابن عساکر کے حوالہ سے ایک روایت بایں الفاظ نقل کی ہے: " امام مہدی اس وقت تک ظاہر نہیں ہوں گے جب تک کہ غوطہ کی حرستا نامی بستی زمین میں دھنسا نہ دی جاۓ" _ الاشاعہ صفحہ ٢٤١

    علامت نمبر ٢٧

    نفس زکیہ کا قتل بھی ظہور مہدی کی علامات میں شمار کیا گیا ہے _ الاشاعہ صفحہ ٢٣٩
    چناں چہ مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک صحابی رسول نے یہ حدیث بیان کی، ترجمہ : "جب نفس زکیہ شہید ہو جائیں گے تو ان لوگوں پر آسمان و زمین والے غضبناک ہو جائیں گے ، پھر لوگ امام مہدی کے پاس آکر انہیں تیار کریں گے ، جیسے دلہن کو شب زفاف میں اس کے خاوند کے لیے تیار کیا جاتا ہے"_ الاشاعہ صفحہ ٢٣٩

    فائدہ

    اگر آپ تاریخ اسلام پر ایک اجمالی نظر ڈالیں تو آپ کو بنو عباس کے زمانہ میں نفس زکیہ نامی ایک شخص کا حوالہ ملے گا ، یہ حضرت علی رضی الله کی اولاد میں سے تھے اور ان کا نسب تین واسطوں سے حضرت علی رضی الله سے جا ملتا ہے. ان کا پورا نام "محمد النفس زکیہ بن عبدللہ المحض بن الحسن المثنیٰ بن الحسن بن علی" ہے ، اہل مدینہ نے ان کی بیعت خلافت لی تھی لیکن یہ خلافت زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور منصور عباسی کے زمانے میں موسیٰ بن عیسی نے ان کو شہید کر دیا تھا _
    اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ روایات مہدی میں جس نفس زکیہ کا بار بار ذکر آتا ہے اس سے مراد آئندہ پیدا ہونے والے نفس زکیہ ہیں ، منصور عباسی کے زمانے کے نفس زکیہ مراد نہیں ہیں کیوں کہ اگر وہی مراد لیے جائیں تو پھر امام مہدی کا ظہور کبھی ہو چکا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا. معلوم ہوا کہ یہ ایک ہی نام کے دو الگ شخص ہیں _

    علامت نمبر ٢٨

    خراسان کی طرف سے سیاہ جھنڈوں کا آنا_
    اس سلسلے میں حضرت عبدللہ بن مسعود رضی الله سے روایت ہے کہ نبی علیہ سلام نے فرمایا ، ترجمہ : "مشرق کی طرف سے ایک قوم سیاہ جھنڈوں کے ساتھ آئے گی اور وہ لوگ مال کا مطالبہ کریں گے ، لوگ ان کو مال نہیں دیں گے تو وہ لڑیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے اب وہ لوگ ان کے مطالبہ کو پورا کرنا چاہیں گے تو وہ اس کو قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہ اس مال کو میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کے حوالے کر دیں گے جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے لوگوں نے پہلے اسے ظلم و ستم سے بھرا ہوگا سو تم میں سے جو کوئی اس کو پاۓ تو اس کے پاس آجاۓ اگر چہ برف پر چل کے آنا پڑے"_ الاشاعہ صفحہ ٢٤٠


    علامت نمبر ٢٩

    ایک کان کے پاس لوگوں کا دھنس جانا _
    اس سلسلے میں حاکم نے حضرت عبدللہ بن عمر رضی الله سے مندرجہ ذیل روایت نقل کر کے اسے صحیح قرار دیا ہے _ ترجمہ : " مختلف کانیں برآمد ہوں گی جن میں سے ایک کان حجاز کے قریب بھی ظاہر ہوگی ، اس کے حصول کے لیے بدترین آدمی جس کا لقب فرعون پڑ گیا ہوگا ، آئے گا ، لوگ اس میں کام کر رہے ہوں گے کہ سونے کی ایک اور کان ظاہر ہوگی ، اس کو دیکھ کر وہ ابھی خوش ہی ہو رہے ہوں گے کہ وہ اس کان سمیت زمین میں دھنسا دے جائیں گے"_ الاشاعہ صفحہ ٢٤١

    علامت نمبر ٣٠

    ظہور مہدی پر دلالت کرنے والی علامات میں سے ایک علامت وقت کا انتہائی تیز رفتاری سے گزرنا بھی ہے جس کی وجہ بظاہر بے برکتی کا پیدا ہو جانا ہوگا_ ترمزی شریف کی ایک روایت کا ترجمہ ہے _ "قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک زمانہ قریب نہ جاۓ سال مہینہ کے برابر ، مہینہ ہفتہ کے برابر ، ہفتہ دن کے برابر ، دن ایک گھنٹہ کے برابر اور ایک گھنٹہ آگ کا شعلہ سلگنے کے برابر نہ ہو جاۓ"_
    اس حدیث کی شرح کرتے ہووے ملا علی قاری نے امام خطابی کا یہ قول نقل فرمایا ہے: " ایسا امام مہدی یا حضرت عیسی یا دونوں کے زمانے میں ہوگا ، میں کہتا ہوں کہ آخری قول ہی زیادہ ظاہر ہے کیوں کہ یہ معاملہ خروج دجال کے وقت پیش آئے گا اور دجال کا خروج ان دونوں بزرگوں کے زمانے میں ہوگا "_

    http://www.haqforum.com/vb/index.php
Working...
X