Announcement

Collapse
No announcement yet.

Kashmiri extremists returning fast

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Kashmiri extremists returning fast

    کشمیری عسکریت پسندوں کی پرامن زندگی کی طرف واپسی


    ارت کے زیرِانتظام کشمیر سے برسوں پہلے مبینہ طور پر عسکری تربیت اور اسلِحے کے حصول کی خاطر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے والے نوجوان اب عسکریت پسندی ترک کر کے واپس اپنےگھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے عہدے داروں نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن کی کوششوں کی بحالی کے بعد پاکستانی حکام نے ان کے انتظامی اخراجات میں پچاس فیصد کمی کر دی ہے۔

    کشمیری عسکری تنظیموں کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران اب تک لگ بھگ چھ سو کشمیری عسکریت پسند پرامن زندگی گزرانے کے لیے واپس بھارت کے زیرِانتظام کشمیر جا چکے ہیں۔
    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انیس سو اٹھاسی میں شروع ہونے والی مسلح تحریک کے دوران وادی سے ہزاروں نوجوان مبینہ طور پر تربیت اور اسلحہ کے لیے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے۔
    ان میں سے اکثر ابتدائی سالوں میں ہی بھارتی فوج سے لڑنے کی خاطر واپس چلے گئے جن میں سے کئی مارے گئے، کچھ گرفتار ہوئے تاہم بعض اب بھی سرگرم ہیں۔
    لیکن اب واپسی کا ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان جو اسلحے کی تربیت اور بندوق لینے تو آئے تھے اب وہ تشدد کو ترک کر کے ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔
    کشمیری عسکریت پسند محمد احسن سنہ 1999 میں لائن آف کنٹرول عبور کر کے وادی کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے لیکن پھر کبھی واپس نہیں جا سکے۔
    انہوں نے یہاں شادی کی اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔ جب ان سے بات چیت کی تو وہ واپس جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
    احسن نے کہا کہ’وہاں( وادی کشمیر) جا کر اپنے گھر میں کاشت کاری کروں گا، اور کیا کر سکتا ہوں اور کوئی کام نہیں کر سکتا، وہ (گھر والے) مجھے کہہ رہے ہیں کہ واپس آئیں ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ میں گھر میں بڑا ہوں اور میرا ایک چھوٹا بھائی ہے۔‘
    کشمیری عسکریت پسند کا کہنا ہے کہ وہ امن کا پیغام لے کر واپس جا رہے ہیں۔ ’امن سے رہیں گے، بندوق کو ہم نے الوداع کہہ دیا ہے۔ہم اس( بندوق) کا نام بھی کبھی نہیں لیں گے۔‘
    آخر ایسا کیا ہوا کہ جس نے ان کی سوچ بدل دی ہے؟
    اب یہاں گزارا نہیں
    "ہمارا یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہاں مہنگائی ہے،اپنا مکان ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار، مہاجر کارڈ پر ماہانہ چھ ہزار روپے ملتے ہیں جس سے ہمارا کیا گذارا ہوتا۔اس لیے ہم نے سوچا اپنے گھر ہی واپس چلے جائیں، وہاں اپنا گھر تو ہے، اپنی زمین، جائیداد ہے اس پر گزر بسر کر لیں گے، کسی کے سامنے ہاتھ تو نہیں پھیلانا پڑے گا"
    محمد حسین
    محمد احسن نے کہا کہ’ہمارا یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہاں مہنگائی ہے، اپنا مکان ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار، مہاجر کارڈ پر ماہانہ چھ ہزار روپے ملتے ہیں جس سے ہمارا کیا گزارا ہوتا۔اس لیے ہم نے سوچا اپنے گھر ہی واپس چلے جائیں، وہاں اپنا گھر تو ہے، اپنی زمین، جائیداد ہے۔ اس پر گزر بسر کر لیں گے، کسی کے سامنے ہاتھ تو نہیں پھیلانا پڑے گا۔‘
    یہ کہانی صرف احسن ہی کی نہیں ہے بلکہ واپس جانے والے یا واپسی کی خواہش رکھنے والے ہر کشمیری عسکریت پسند کی یہی کہانی ہے۔
    سنہ 2001 میں وادی کشمیر سے مظفرآباد آنے والے ایک کشمیری عسکریت پسند رفیق احمد نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں ان کے کئی ہمسائے اور دوست واپس جا چکے ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ’ پندرہ سے بیس لوگ واپس چلے گئے ہیں اور وہ بھی نیپال کے ذریعے واپس گئے ہیں۔میری ان سے بات ہوتی رہتی ہے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم ٹھیک ہیں، خوش ہیں، اپنے گھر میں رہ رہے ہیں‘۔
    ان کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ عرصہ گرفتار رکھا گیا اور بعد میں رہا کیا گیا اور اب وہ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
    گزشتہ سال جنوری سے شروع ہونے والے اس عمل سے باخبر ایک کشمیری عسکریت پسند غلام محمد نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے چھ سو شدت پسند واپس جا چکے ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن کی کوششوں کی بحالی کے بعد واپسی کے عمل بھی تیزی آئی ہے اور صرف رواں سال میں واپس جانے والوں کی تعداد پانچ سو ہے۔
    غلام محمد کے مطابق ’دو ہزار بارہ میں بیس مئی تک پانچ سو عسکریت پسند واپس چلے گئے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر ایسے تھے جنہوں نے پاکستان یا اس کے زیر انتظام کشمیر میں شادیاں کیں اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ واپس چلے گئے۔
    ان کا کہنا ہے کہ واپس جانے کے لیے عسکریت پسندوں کی ایک قطار لگی ہوئی ہے اور ہر ہفتے تقریباً دس سے پندرہ عسکریت پسند نپیال کے راستے واپس جا رہے ہیں۔
    لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجیں تو موجود ہیں لیکن سنہ 2003 میں دونوں ممالک کے درمیان قیام امن کا عمل شروع ہونے کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا جو اب تک قائم ہے۔
    ہندوستان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر خار دار تاریں لگا دیں اور نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے جدید آلات نصب کیے اور پاکستان نے بھی عالمی دباؤ کے نتیجے میں شدت پسندوں پر پابندیاں لگائیں۔ ان اقدامات سے لائن آف کنٹرول عبور کرنا انتہائی مشکل بن گیا۔
    اس صورتحال میں لڑنے کی غرض سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد میں بھی انتہائی کمی آئی ہے۔
    بعض بھارتی فوج سے لڑنے کے لیے اب بھی لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششں کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو وادی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اکثر مارے جاتے ہیں۔
    پرامن زندگی گزارنے کے لیے اپنے گھروں کو واپس جانے والے نوجوانوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ ممکنہ خطرے کی وجہ سے لائن آف کنٹرول کا راستہ استعمال نہیں کرتے۔
    اس کے بجائے انہیں زیادہ طویل لیکن قدرے محفوظ سمجھے جانے والے راستوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ان راستوں میں سے ایک پاکستان سے نیپال اور پھر وہاں سے بھارت جانے کا ہے جو وہ اختیار کر رہے ہیں۔
    کشمیری عسکریت پسند محمد احسن نے کہا’ انہیں اپنا، اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے لیے نیپال تک ایک لاکھ تیس ہزار پاکستانی روپے جہاز کے ٹکٹ کے طور پر ادا کرنا پڑے ہیں اور جلد ہی وہ روانہ ہو جائیں گے‘۔
    انہوں نے کہاکہ ’میرے پاس کرائے کے لیے پیسے نہیں تھے اور میں نے پانچ پانچ سو، ایک ایک دو دو ہزار جمع کیے اور گھر سے بھی پیسے منگوائے۔‘
    وادی کشمیر میں برسرپیکار لگ بھگ ایک درجن کشمیری عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ جمیل الرحمان بھی مانتے ہیں کہ نوجوان اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔
    انہوں نے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ’پاکستان نے اپنی پالیسی بدل دی ہے اور دوسرا یہ کہ ساتھیوں کے معاشی مسائل بھی ہیں اور تیسری بات یہ کہ وادی میں ان کے والدین اور بیوی بچے ہیں جن سے وہ ملنا چاہتے ہیں‘۔
    لیکن عسکریت پسند رہنما کا کہنا ہے کہ واپس جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
    مسلح تحریک پر اثر نہیں پڑے گا
    "واپس جانے والے گنے چنے لوگ ہیں، ہم کسی کو نہیں روک سکتے ہیں اور نہ حکومت پاکستان انہیں روک سکتی ہے۔ کوشش تو ہے کہ وہ نہ جائیں اور یہاں ہی استقامت کے ساتھ رہیں لیکن جو جانا چاہیے وہ جا سکتے ہیں، اسے مسلح تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ مجاہدین کی اکثریت اب بھی مسلح تحریک اور قیادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے"
    شیخ جمیل الرحمان
    ’واپس جانے والے گنے چنے لوگ ہیں، ہم کسی کو نہیں روک سکتے ہیں اور نہ حکومت پاکستان انہیں روک سکتی ہے۔ کوشش تو ہے کہ وہ نہ جائیں اور یہاں ہی استقامت کے ساتھ رہیں لیکن جو جانا چاہیں وہ جا سکتے ہیں، اس سے مسلح تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ مجاہدین کی اکثریت اب بھی مسلح تحریک اور قیادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔‘
    لیکن جس رفتار اور تعداد میں لوگ واپس جا رہے ہیں اسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند رہنما کا بیان حقیقت کے برعکس ہے۔
    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے تـجزیہ نگار ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ غالب اکثریت واپسی کا سوچ رہی ہے۔
    ‘دیکھیے بہت سارے لوگوں کے ساتھ مجھے بات کرنے کا موقع ملا ہے ۔ ان میں غالب اکثریت ایسی ہے جو واپس اپنے گھروں کو جانے چاہتی ہے، وہاں آباد ہونا چاہتی ہے، وہاں پر امن زندگی گذرانا چاہتی ہے۔‘
    کشمیری عسکریت پسندوں کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اب بھی تین سے چار ہزار عسکریت پسند موجود ہیں۔
    ان میں بہت سارے ایسے ہیں جو واپس تو جانا چاہتے ہیں لیکن نہ تو قسمت اور نہ ہی جیب انہیں اس کی اجازت دے رہی ہے۔

    بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے لائن آف کنٹرول عبور کرنا انتہائی مشکل بن گیا
    واپسی کے عمل سے باخبر کشمیری عسکریت پسند غلام محمد خود بھی واپسی کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات ان کے آڑے آ رہی ہیں۔
    ‘میں اپنے ماں باپ کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں۔ جیسے ہی کچھ رقم کا بندوبست ہوجائے گا تو چلے جائیں گے، یہاں نہیں رہوں گا۔ابھی پیسوں کا کوئی بندوبست نہیں ہے، پیسے بچتے ہی نہیں ہیں، میں ہوں، میری بیوی ہے، دو بچے ہیں، کرایے کے مکان میں رہتے ہیں، جو کماتے ہیں وہ کھاتے ہیں‘۔
    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔
    ’مجھے مہاجر کارڈ سے چھ ہزار روپے ملتے ہیں اور اس کے علاوہ ٹیکسی چلاتا ہوں، مہینے میں بارہ تیرہ ہزار ہو جاتے ہیں۔اس میں گزارا نہیں ہوتا۔ میرے دو بیٹے ہیں- ایک کی عمر چودہ سال ہیں اور دوسرے کی عمر آٹھ سال ہے۔میں ان کو نہیں پڑھا سکتا ہوں، میں ان کی تعلیم کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہوں، ہماری بہتری واپسی میں ہی ہے۔‘
    غلام محمد کو پاکستان اور کشمیری رہنماؤں سے بھی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں استعمال کیا۔
    ’کوئی جہاد نہیں ہورہا ہے، ہمارے ( کشمیری ) لیڈروں نے اس کو کاروبار بنا دیا ہے۔اگر ہم ان کو بولتے ہیں کہ واپس جانا ہے تو کہتے ہیں کہ جاؤ جہاں جانا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اپنا بندوبست خود کرو۔ پاکستان نے بھی ہمیں استعمال کیا۔‘
    پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بعض کشمیری عسکریت پسند تو یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان ان کی باعزت واپسی کا انتظام کرے۔
    سنہ 2001 سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم رفیق احمد کا کہنا ہے ’جہاد تو ختم ہو چکا ہے اور میں اس کو ٹھیک سمجھتا ہوں، اس (مسلح جدوجہد میں) میں بےگناہ لوگوں کی جانیں چلی گئیں، اس میں عزتیں چلی گئیں، اس میں معصوم بچے مارے گئے۔آزادی اس طرح سے نہ ملنا تھی اور نہ ہی ملے گی، مجبور لوگ اپنے گھر کا سامان بیچ کر گھر واپس جا رہے ہیں، پاکستان ہمیں با عزت طریقے سے واپس بھیجے اور ہمیں اخراجات دیں جو ہمیں وہاں پہنچے کے لیے لگتے ہیں‘۔

    اس طرح سے ان کے لیے ساز گار حالات پیدا کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ معمول کی زندگی شروع کر سکیں: ارشاد محمود
    کشمیری تجزیہ نگار ارشاد محمود کے نزدیک اس سارے عمل میں جہاں ہندوستان انہیں سہولت فراہم کر رہا ہے وہیں حکومتِ پاکستان بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی ہے۔
    ان کا کہنا ہےکہ ’بظاہر یہ نہیں لگتا ہے کہ پاکستان واپس جانے والوں کے لیے کوئی سہولت فراہم کر رہا ہے یا ان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔لیکن ابھی تک جو پانچ چھ سو لوگ گئے ہیں تو ابھی تک ایسا کوئی مثال سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ پاکستان نے کسی کو جانے سے روکا ہو۔ پاکستان میں مجھے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے کہ لوگوں کو روکا جا رہا ہو۔‘
    ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر واپس جانے والے عسکریت پسندوں کے لیے بحالی کی پالیسی اپنائی ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے ان کے لیے ساز گار حالات پیدا کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ معمول کی زندگی شروع کر سکیں۔
    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پھنسے ہوئے کئی کشمیری عسکریت پسندوں میں امن کی خواہش بہت زیادہ ہے اور وہ اس حق میں ہیں کہ تنازعہ کشمیر کا حل بندوق کے بجائے مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔
    لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں ممالک کو ان کی اور ان کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ان کی اپنے گھروں کو واپسی آسان بنانے کے لیے کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔


  • #2

    Comment

    Working...
    X