Announcement

Collapse
No announcement yet.

Urdu Translation of the joint declaration of the Jarga held at Nishthar Hall Peshawar

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Urdu Translation of the joint declaration of the Jarga held at Nishthar Hall Peshawar



    نشتر ہال پشاور مورخہ29 اور30مئی2012ء
    ویسے تو افغان سرزمین مدتوں سے جنگیں دیکھتی چلی آ رہی ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے جاری جنگ جس میں خارجی حمایت یافتہ ریاستی اور غیر ریاستی دونوں عوامل شامل ہیں میں لاکھوں افغان قتل، زخمی اور بے گھر ہوئے اور اس جنگ نے ڈیورنڈ لائن کے آر پار افغانوں کی سیاست، معیشت،کلچر اور پورے معاشرے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں جن میں بعض تو انتہائی بد شکل ، غلیظ اور مکروہ ہیں اور جن کے ذریعے افغانوں کے کلچر اور دین کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔ افغان سر زمین جو امن کا گہوارہ اور جرگوں کی سرزمین ہے وہاں انسانی خون بہانا اور بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل معمول کی بات بنا دی گئی ہے اور سارا علاقہ بارود کے ڈھیر میں بدل دیا گیا ہے۔جنگ کے نتیجے میں لاکھوں لوگ مارے گئے، لاکھوں بے گھر ہوئے، بچے بوڑھے اور معصوم اور مرد خواتین کیمپوں میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گھر، مزار، حجرہ، مسجد ، چادر اور چار دیواری اور بزرگ اور عالم دین کا احترام ختم کر دیا گیا ہے۔ بیرونی اعانت اور حمایت اور اپنوں کی بے عقلی اور بے کاری کی وجہ سے آج افغان مر بھی رہا ہے اور اسے لعنت اور ملامت بھی کیا جا رہا ہے اور افغان کا تعارف دنیا میں ایک دہشت گردکی شکل میں کرایا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ افغان روا دار، معتدل اور انتہائی برداشت کے مالک ہیں آج ان پر جو کچھ ہو رہا ہے غیروں کے ہاتھوں سے ہو رہاہے۔
    یہ بات بھی آج واضح ہے کہ افغان جنگ کی وجہ سے بیرونی مداخلت کار قوتیں اقتصادی، سیاسی اور سنگین اندرونی مسائل سے دوچار ہیں اور ان پر روز بروز افغان مسئلے کے حل کے لئے داخلی دباﺅ بڑھ رہا ہے۔

    ڈیورنڈ لائن کے آر پار افغانوں کا یہ دو روزہ قومی جرگہ افغان سرزمین پر جاری جنگ کی خارجی اور داخلی قوتوں سے اپیل کرتا ہے کہ

    الف: وہ فوری طور پر جنگ سے باز آئیں اور جنگ بندی کا اعلان کریں اورخطہ بشمول فاٹا میں ہر قسم کے فوجی آپریشن بند کئے جائیں اور صلح اور افہام و تفہیم کے راستےاس جنگ کا حل نکالنے کےلئے مذاکرات کا آغاز کیا جائے ۔

    ب: ڈیورنڈ لائن کے آر پار افغان سرزمین پر جو بھی جس شکل میں مداخلت کر رہا ہے اور جنگ کو ہوا دے رہا ہے وہ فوری طور پر ہر قسم کی مداخلت بند کردے۔

    ج: افغانستان اور پاکستان خود اور ان کے تمام پڑوسی ممالک ڈیورنڈ لائن کے آر پار افغان سرزمین میں صلح اور امن کے پراسس میں مثبت کردار ادا کریں اور افغانوں کے مابین امن اورافہام و تفہیم کے لئے ہر سہولت مہیا کریں اور صلح اور امن کی کوششوں کی بھرپور حمایت کریں۔

    د: یہ جرگہ دنیا کی تمام اقوام خصوصاً ترقیافتہ ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کے آر پار جنگ سے تباہ حال پشتون علاقوں کی دوبارہ بحالی ،ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے کاموں کا آغاز کرے تاکہ ان علاقوں میں غربت اور پسماندگی ختم ہو اور یہ دوسرے علاقوں کے برابر ہو سکیں۔

    ر: یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ افغانستان میں نہ صرف بیرونی مداخلت بند ہو بلکہ وہاں موجود بیرونی افواج بھی اعلان کردہ معاہدے اور روڈ میپ کے مطابق افغان سرزمین چھوڑ دے۔

    س: یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ افغان جنگ کے تمام فریقین فائر بندی کے ساتھ صلح اور افہام و تفہیم کے عمل کو آگے بڑھانے اور اس کی نگرانی کرنے کے لئے باہمی اتفاق رائے سے کوئی میکانزم وضع کرے۔

    ش: یہ جرگہ مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے ساتھ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سہ فریقی معاہدے کے تحت اچھا سلوک کریں اور انہیں بے جا تنگ نہ کیا جائے۔
    جرگہ کے مقاصد کے حصول کے لئے جرگہ مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرتا ہے۔

    ا۔ جرگے کے امن اور صلح کے پیغام کے پیش نظر جرگہ تمام اہم شخصیات، سیاسی، مذہبی،سماجی، ثقافتی اور ادبی تنظیموں کے نمائندوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ جرگے کا پیغام پشتون افغانوں کے گھر گھر اور کونے کونے تک پہنچا دیں۔

    ۔ ۲، یہ جرگہ ان مقاصد کے حصول کے لئے محمد افضل خان لالا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر امن قائم کرنے اور افہام و تفہیم کے پراسس کے لئے اپنا ایکشن پلان تیار کرے اور مناسب عملی اقدامات اٹھائے۔
    جرگے کی نمائندگی پر اور اعلیٰ اختیاراتی افغان امن کمیشن کو اعتماد میں لیتے ہوئے افغان جنگ کے فریقین کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک رابطے قائم کرے اور فریقین کوافہام و تفہیم کے ذریعے امن کی جانب آگے بڑھائیں۔
    ۔ ۲، جرگہ تمام افغانوں سے خواہ وہ جہاں بھی ہو جرگہ میں شریک ہو یا نہیں، سے اپیل کرتا ہے کہ وہ پشتونوں کی سرزمین پر ڈیورنڈ لائن کے آر پار امن اور صلح کےلئے اپنا خاص کردار ادا کرے اور جرگہ کی حمایت کرے۔

    [Show as slideshow]



  • #2
    Now a rough translation of the first paragraph of the above declaration.


    "Although, war has been imposed on Afghans throughout history but the war for the last few decades involving both foreign and local factors has caused the death and displacement of hundreds of thousands of Afghans. This war has adversely affected the politics, culture, economy and society of Afghans on both sides of the Durand Line. Some of these impacts are extremely adverse through which the culture and religion of Afghans have been negatively presented to the world. Massacre and killing of brothers at the hands of the brothers has been made a normal phenomenon on the Afghan land which historically has been the bastion of peace and land of jargas. And the whole area has been turned into into a minefield. As a result of war, millions of people have been killed, displaced, and innocent women, and children have been made homeless living miserable lives in refugee camps. Moreover, this war has eroded regard for mosque, hujra, and privacy of homes and respect for scholars, and religious leaders. Due to the interference of foreign forces and wrong actions of our own people, Afghans today are being killed as well as condemned internationally and presented to the world as terrorists. The fact is that Afghans are tolerant and moderate people and are the victims of foreign-driven agenda.

    Today, it is becoming increasingly clear that the invading powers are facing internal economic and political problems and pressure to find a solution to the Afghan problem."

    This tow-day jarga of Afghans to both sides of the Durand Line appeals to the internal and external forces that:
    Last edited by Toramana; 05-31-2012, 01:26 AM.

    Comment

    Working...
    X