Announcement

Collapse
No announcement yet.

ترقی پسند یا سرقہ باز

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • ترقی پسند یا سرقہ باز


    ادبی تنقید

    ترقی پسند یا سرقہ باز

    تقدیم: محمد زکریا
    سید علی اکبر قاصد

    آدم علیہ السلام کو جن جن خوبیوں سے سنوارا گیا تھا اُن میں چیزوں کے نام رکھ لینا ایسی خوبی تھی کہ اُس منظر کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے۔
    وعلّٰم آدم الاٰسماءَ کلہا ”اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے“۔
    یہی خوبی آدم کی نسل میں اس وقت سے آج تک انسان کو دوسری مخلوقات سے سرفراز کرنے کا سبب بنتی رہی ہے۔ انسان نہ صرف حسی چیزوں کے نام رکھتا ہے بلکہ تصورات، احساسات، جذبات اور غیر مرئی چیزوں کے بھی نام رکھ لیتا ہے۔ حسی چیزوں میں بھی اُن کے اجزاءکے الگ الگ نام رکھتا ہے۔ انسان صرف اس بات پر اکتفاءنہیں کرتا کہ ”یہ گلاب کا پودا ہے“ بلکہ وہ زمین کے اندر والے حصے کو جڑ کہتا ہے، باہر والے حصے کو ٹہنیاں، خار، پتے، کلی، پھول، پنکھڑی غرض اس ایک پودے کا احوال کہنا چاہیں تو اَن گِنت نام رکھے ہوئے ملیں گے، شاعری میں اس پودے کے چند نام ہیں تو علم زراعت کے لحاظ سے اور نام ہوں گے اور علم حیاتیات کے لحاظ سے اور نام ہوں گے۔
    تَخیُّّل کی جو نعمت اسے میسر ہے اُس کے بل بوتے پر یہ غیر مرئی کیفیات کا نام رکھتا ہے بزدلی، دلیری، بُخل، سَخاوت، خشیت، تقویٰ، نیت .... ہم غور کریں تو غیر مرئی چیزوں کے نام بھی زیادہ ہیں اور ان کی اہمیت بھی زیادہ ہے۔ مثلاً حِسی عبادات از قسم نماز، حج اور روزہ کا تمام تر انحصار باطن میں موجود تصورات، یقین اور غرض وغیات پر ہے، خدا کے سامنے جوابدہی کا تصور، اور اس پر یقین جسے ایمان کہتے ہیں۔ غرض وغیات کے لئے نیت کا نام رکھ لیا ہے اور پھر کہاکہ انما الاعمال بالنیات اعمال کا تمام تر انحصار نیت پر ہے۔
    وہ حسی اور غیر حسی تصورات کو جوڑنے کے لئے حروفِ ربط کا استعمال کیا ہی خوبی سے کر لیتا ہے ’مجھے شیر سے خوف آتا ہے‘ شیر ایک خونخوار جنگلی درندہ ہے اور خوف ایک اَن دیکھی کیفیت ہے اور ہم ان دونوں حِسی (شیر) اور غیر حِسی (خوف) کو حروفِ ربط (1) کے ساتھ جوڑ کر اپنی غرض بڑی خوبی سے بیان کر دیتے ہیں۔ پھر ہم سیدھے سبھاؤ جملے نہیں بناتے بلکہ ان میں خوب سے خوب تر حروف ربط کا چناؤ کرتے ہیں اگر کسی چیز کا نام زبان زد خاص وعام ہو کر حُسنِ اداءکی خوبی کھو بیٹھے تو پھر ہم متردافات کا استعمال کرتے ہیں شیر کے لئے اسد، ضیغم، سنگھ، غضنفر، حیدر، ببر، ضرغام آغور ....
    (1) یہاں حروفِ ربط سے گرائمر کی اصطلاح مُراد نہیں بلکہ متعدد اَسماءکو جوڑ کر جملے کی ترکیب مُراد ہے۔
    پھر اپنے خالق کی اس بات کو سچ کر دکھانے پر کہ فَلَمَّا اَنبَآئَہُم بِاَس مَائِہِم قَالَ اَلَم اَقُل لَّکُم اِنِّی اَعلَمُ غَیبِ السَّمَوٰاتِ وَالاَرضِ ”جب اُس نے اُن کو اِن سب کے نام بتا دیے، تو اللہ نے فرمایا، میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں.۔۔۔
    ہم حسن ادائیگی میں رعنایاں اور تاثیر پیدا کرنے کے لئے کنایہ اور استعارے کی زبان استعمال کرتے ہیں پھر کنایہ کی آگے اقسام ہیں۔ استعارہ کبھی استعارہ تصریحیہ استعمال کرتے ہیں اور کبھی استعارہ مکنیہ۔ لفظ کو کبھی حقیقی معنی میں استعمال کرتے ہیں کبھی مجازی معنی میں، ایک ہی اسم مثال کے طور پر شیر کبھی چیر پھاڑنے والا درندہ ہوتا ہے او رکبھی دلیری اور شجاعت کے لئے مجازی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ غیر مرئی چیز کی وضاحت کے لئے ہم مرئی چیزوں کو بڑی خوبی سے استعمال کرتے ہیں اور اسے تشبیہ کہتے ہیں کسی کی دلیری کو بیان کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں شیر کی طرح دلیر۔
    تشبیہ کی بھی کوئی ایک قسم نہیں ہے کبھی تشبیہ تمثیلی استعمال کرتے ہیں تو کبھی تشبیہ مقلوب، یہاں تک کہ ادبی اصطلاحات کو سمجھنے کے لئے ہمیں لغت کی ضرورت پڑتی ہے جو صرف ادبی اصطلاحات کی وضاحت کے لئے مرتب کی جاتی ہے۔
    اگر اپنے مافی ضمیر میں تاثیر پیدا کرنے کے تمام طریقے ہم اپنے پیش نظر رکھیں تو پھر زبان وادب کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ ہم ہر روز اپنی اپنی سطح اور ظرف کے مطابق اُسے بہ خوبی استعمال کرتے ہیں۔ تاثیر پیداکرنے والے عوامل، آواز کا زیر و بم، گفتگو کے ساتھ، ہاتھ، چہرے اور آنکھوں کی حرکت، جملوں کا تیزی سے ادا کرنا، مختصر وقفہ دینا، لمبا وقفہ کرنا، دھیمی آواز، اونچی آواز، رعب دار آواز، سیلزمین کی خوش آمدانہ آواز ....
    خاموشی .... جی ہاں خاموشی بھی تاثیر پیدا کرنے میں بات کہہ دینے سے کم اہم نہیں ہے۔ کسی شاعر نے اپنے ممدوح کی وفات پر خاموشی کو کس خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔
    یقولون حِصن ثم تابیٰ نُفُوسُہُم
    وہ کہتے ہیں ہائے ہمارا (خدا کے بعد) سہارا‘ پھر ان کی سانسوں نے ان کے الفاظ کا ساتھ نہ دیا، شدت غم سے ان کی آواز حلق کی حلق میں ہی رہ گئی۔
    شیکسپیئر اپنے شہ پاروں میں خطابت کی جادوئی تاثیر کو بیان کرنے کے لئے دو مخالف گروہوں کے قائدین کی تقریر کا اثر دکھاتا ہے۔ ایک گروہ کا قائد مقتول کی خوبیاں اس طور پر بیان کرتا ہے کہ ابنوہِ عظیم قاتلین کی تکا بوٹی کر دینے پر تیار ہو جاتا ہے، اتنے میں قاتلین کا قائد اپنی تقریر کا آغاز کرتا ہے، مقتول کی خوبیاں بیان کرتے کرتے وہ اُس کے چند عیوب بیان کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ مقتول کے خلاف نفرت پیدا کرتا جاتا ہے، ساتھ ساتھ بپھرے ہوئے ابنوہِ عظیم کا غصہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، اگلے مرحلے میں صاحب تقریر تمام سامعین کو قائل کر دیتا ہے کہ قتل ہونے والا قتل کے لائق تھا اور اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں تھا۔ مزید برآں اب حکمرانی کے لائق خود قاتلین ہیں اور ابنوہِ عظیم قاتلین کو اپنا حاکم تسلیم کرلیتا ہے۔
    اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: عن ابن عباس انّ اعرابیاً جاءالی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فتکلَّم بکلامٍ بیِّنٍ فقال النبیّ انّ مِنَ البیان سِحراً وانَّ مِنَ الشعر حُکماً
    ”بعض تقریروں میں جادوئی تاثیر ہوتی ہے“۔
    مقدمات سنتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو، تم میں سے کوئی شخص اپنے زورِ بیان میں یہ خوبی پیدا کر لیتا ہے کہ میں اُس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں۔ یاد رکھو اگر وہ حق نہ رکھتے ہوئے بھی اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتا ہے تو گویا وہ اپنے حصے میں دوزخ کا ایک ٹکڑا لے جاتا ہے۔
    امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے اگر کوئی چرب زبان (مناظرے میں) مجھے خاموش کرا دیتا ہے تو کیا اس ہار کی وجہ سے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے راستے کو چھوڑ کر اہل بدعت کے راستے پر چل پڑوں گا!۔
    زبان میں تاثیر ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ اب یہ آدمی کا اپنا اختیار ہے کہ وہ پہلے زبان میں تاثیر پیدا کرنے والی ادبی محاسن اپنے اندر پیدا کرتا ہے اور پھر اُسے اللہ کے دین کی حفاظت اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اُسے استعمال کرتا ہے یا ترقی پسند ادیب بن جاتا ہے کہ جس کا مقصد ادب برائے ادب یا فحاشی وعریانی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادبی محاسن اور زبان کی تاثیر سے خوب آشنا تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ”میں رب العالمین کے مکتب سے فارغ التحصیل ہوں“۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلمفرماتے تھے: اَنا افصح العرب ”میں تمام عربوں میں فصیح تر ہوں“۔
    یہی خوبی آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اصحاب میں پیدا کی تھی اگرچہ عرب ہونے کی وجہ سے وہ پہلے ہی زبان کی خوبیوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیروں کی گفتگو سیرت کی کتابوں موجود میں ہے، نجاشی کے دربار میں اور رستم ایران کے ساتھ جو گفتگو ہوئی وہ دُنیا کے علم سیاسات میں ایک اونچا مقام رکھتی ہے۔
    خلفائے راشدین کی تقریریں سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ساتھیوں کو عار دلاتے ہیں تاکہ وہ دشمن کے مقابلے میں مردانگی دکھائیں:۔ یا اشباہ الرجال ولا رِجال ”اَدھورے مردو، ارے تم تو اَدھورے بھی نہیں ہو“۔
    شاعری کی تاثیر سے آپ پوری طرح آگاہ تھے اور فن خطابت تو آپ نے عروج پر پہنچا دیا تھا۔
    گزشتہ کئی عشروںسے برصغیر کے بیشتر علمائے کرام اردو زبان کو اس قرینے سے نہیں برت سکے ہیں جس قرینے سے برصغیر کے ادیبوں نے اردو زبان کو استعمال کیا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایک تو اردو زبان کی خوبی ادیب لے گئے اور دوسرا ہمارے ادیب بیرونی ثقافت کے رنگ میں جلد ہی رنگ گئے۔ ترقی پسند ادیب گزشتہ پچاس سالوں سے برصغیر کے ادب پر بلاشرکت غیرے چھائے ہوئے ہیں لیکن افسوس اس بات کا بھی ہے کہ جن ادیبوں سے ہمارے عوامی دین دار نمائندوں نے حسن ادائیگی میں مات کھائی ہے اُن میں سب کے سب اس قد کاٹھ کے نہ تھے کہ ہمارے بزرگوں کو اردو زبان کے خوبصورت استعمال پر پچھاڑ دیتے۔ اِن میں سے بیشتر کے خیالات یورپ یا روس کے ادیبوں کے چرائے ہوئے ہوتے تھے۔ آج کل بھی ہماری درسی کتابوں میں بچوں کی آزاد نظموں کا تقریباً سارا گلدستہ ہی مغربی شعراءکے مسلے ہوئے پھولوں سے تیار ہوا ہے مگر کیا کیا جائے کہ ہم شریف زادے ان سرقہ باز ادیبوں کو بھی ننگا نہ کر سکے۔ خوشہ چین اہل قلم کو کیا زیربحث لانا، برصغیر کے تخلیق کار بھی سرقے کو مالِ مفت کی طرح اڑانے میں کچھ خوشہ چین ادیبوں سے پیچھے نہیں ہیں۔
    اردو زبان پر یہ ستم برصغیر کے دردمندوں سے دیکھا نہ گیا تو سرقہ بازوں کو شرم دلانے کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں سے ادبی رسالے شائع ہونے لگے۔ ان میں ایک سلسلہ ’چہ دلاور است‘ کا بھی تھا۔ جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف وتالیف وترجمہ نے چہ دلاور است کے مضامین شعبہ کے ترجمان جریدہ (27) میں شائع کئے ہیں۔ ان مضامین میں ایک مضمون ہندوستان کی نامور مصنفہ عصمت چغتائی کے سرقے پر بھی شائع ہوا ہے۔ ایقاظ، قارئین کی خدمت میں یہ مضمون، ناظم شعبہ تصنیف وتالیف وترجمہ، جامعہ کراچی کی باضابطہ اجازت سے پیش کر رہا ہے۔
    جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبان کے حسن کو خوب سمجھتے تھے اور زبان کو ہدایت ربانی کے لئے سفارتی، ادبی اور عوامی ہر فورم پر نہایت خوبصورتی سے استعمال کرتے تھے۔ زبان وادب کی اہمیت اور تاثیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایقاظ میں زبان وادب کو پھر سے اسلام کی دعوت کے لئے استعمال کرنے کے لئے بطور ایک اپیل کے زبان وادب کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔
    قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی آراءکے ساتھ ایقاظ کے اس آغاز میں اپنا بھرپور تعاون بھی پیش کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو جو خوب کہہ دینے کی صلاحیت ودیعت کی ہے تو ایک تو اُسے اللہ کے دین کے لئے استعمال ہونا چاہئے اور دوسرا اس سے پہلے خدا کے دین کو خوبصورتی سے پیش کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرنا چاہیے۔ زبان وادب کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے ایقاظ اپنی سی ایک کوشش کرنے پر قارئین کے تعاون کا منتظر ہے۔

    More at
Working...
X