from internet link http://urdublog.eu.pn/do_tok.html
آئینِ پاکستان سے آپ بے شک حسنِ ظن رکھیں لیکن اس دستور کی ایمان شکن ادائیں مجبور کرتی ہیں کہ ضمیر کی عدالت میں اس سے ثبوت بھی طلب کرلیا جائے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ اور نبیﷺ کی بات ہی ایسی ہے جسے کوئی شرط اور کوئی پابندی لگائےبغیر مانا جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اور نبیﷺ کی ذات کے علاوہ جو کوئی بھی ہو ، اس کی بات کسی نہ کسی شرط یا پابندی کے ساتھ ہی مانی جائے گی۔ اگر اس کی بات اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہیں ہے تو مان لی جائے گی ورنہ نہیں۔ یہ حیثیت صرف اور صرف اللہ کی ہے کہ اس کی بات شرطیں لگائے بغیر، بے چون و چرا ں مانی جائے گی۔ حتیٰ کہ رسول ؐ کی بات بھی صرف اس لیےمانی جاتی ہے کیونکہ وہ جو بھی کہتا ہے وہ اس پر وحی کیا گیا ہوتا ہے۔یہ مقام اور مرتبہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لائق نہیں ہے۔ اگر کوئی خدا کو یہ مقام اور مرتبہ دینے کا روادار نہیں ہوتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا کےحکم اور کسی انسان کے حکم کو ملک کے قانون کی حیثیت تب ہوگی جب تک اس بات کو اسمبلی کی دوتہائی اکثریت پاس نہ کردے تو اس نے خدا کو بندوں کا اور بندوں کو خدا کا مقام دے دیا ہے۔بندوں اور خدا کو ایک برابر کردیا ہے۔ قرآن اسے شرک کہتا ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کے دستور کا ہے۔چاہے کہنے کو یہ ’’حاکمِ اعلیٰ‘‘ اور ’’اقتدارِ اعلیٰ‘‘اللہ ربّ العزّت کا تسلیم کرتا ہے لیکن جو حیثیت دستور میں یہ اس ’’حاکمِ اعلیٰ‘‘کو دیتا ہے وہ کسی دوسرے انسان سے مختلف نہیں ہے۔ ایک طرف یہ کہا جائے کہ اصل اقتدار خدا کا ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ہی یہ شرط لگا دی جائے کہ جب تک خدا دو تہائی اکثریت نہیں لائے گا تب تک اس کا اقتدار بھی نہیں چلے گا۔ کیا آسمان اور زمین کے خالق اور مالک کی یہی حیثیت ہے؟ جس کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے نبی ؐ سے یہ کہتا ہے:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ O لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ O ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ O فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ O
’’اور اگر (بالفرض)یہ پیغمبر کچھ (جھوٹی )باتیں بنا کر ہماری طرف منسوب کردیتے ، تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے، پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کے لیے آڑے آسکتا۔‘‘(الحاقہ: 44-47)
جس روز وہ حساب لے گا تو اس کے جلال کے سامنے کسی کی زبان نہیں کھل پائے گی:
۔۔۔ وَخَشَعَت الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْساً O
’’اور خدائے رحمٰن کے آگے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی ، چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔‘‘(طٰہ:108)
جس کی قوت کا یہ عالم ہے کہ :
۔۔۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۔۔۔
’’حالانکہ پوری کی پوری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور سارے کے سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘(الزمر:67)
جس کے راج کا عالم یہ ہے کہ: اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً O
’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین بھی انہی کی طرح ، اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔‘‘(الطلاق:12)
اس کی زمین پر، اس کا دیا کھاتے ہوئے، اس کا دیا پہنتے ہوئے ، اپنے ملک کے دستور میں اس کی یہ حیثیت رکھی ہے!
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَاراً O
’’تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے بالکل نہیں ڈرتے؟‘‘(نوح:13)
کسی فوج کے سپہ سالار کو اس کے کمانڈر اور سپاہی یہ کہیں کہ بس تم ہی ہمارے سپہ سالار ہو ۔ تمہارے علاوہ ہمارا کوئی سپہ سالار نہیں ہے۔ جب وہ انہیں کسی کام کا حکم دے تو اسے جواب میں کہا جائے کہ اس حکم کو ہم حکم تبھی مانیں گے جب فوج کی دو تہائی اکثریت اسے تسلیم کرے گی۔ ویسے ہمارے سپہ سالار تم ہی ہو۔ یہ کیسا ذلت کا مقام ہےجو اس سپہ سالار کو دیا گیا ہے!!کوئی باغیرت ایسی ذلت برداشت نہیں کرتا کجا یہ کہ وہ ربّ العالمین ہو۔ اس کی غیرت بھی یہ چیزیں برداشت نہیں کرتی۔ زمین پر ایسا ننگا کفر اور اس کی ایسی اہانت کرکے بھی سینہ پھیلا کرکے چلتے رہنا صرف اس لیے ہے کہ:
لو کانت الدنیا تزن عندللّٰہ جناح بعوضۃ ما سقیٰ منھا کافرا شربۃ مآء
’’اگر دنیا کی اللہ کے ہاں اتنی حثییت بھی ہوتی جتنی ایک مچھر کے پر کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیاسےایک گھونٹ پانی بھی پینے کو نہ دیتا۔‘‘(ترمذی، ابنِ ماجہ)
مالک اسے مانا جائے اور جب وہ حکم کرے تو اسے دو تہائی اکثریت سے مشروط کردیا جائے۔ پھراس کے بعد بار بار دہرایا جائے کہ اقتدارِ اعلیٰ کےمالک تو تم ہی ہو۔ یہ اس سے کیسا کھلواڑ کیا جارہا ہے! کسی نے ہم پر چار پیسے بھی خرچ کیے ہوں تو اس کے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے اس کی جھوٹی سچی حمایت پر اتر آتے ہیں۔ پھر اپنے ربّ کے حکموں کے ساتھ اس کھلواڑ پر چہرے سرخ کیوں نہ ہوں! پیشانیوں پر بل کیوں نہ پڑیں!اس آئین کی نام نہاد تقدیس پامال کیوں نہ کی جائے! کیا یہ جان لینے کے بعد اب بھی اس کھلواڑ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے؟؟
(تحریر :محمد سعید حسن)
آئینِ پاکستان سے آپ بے شک حسنِ ظن رکھیں لیکن اس دستور کی ایمان شکن ادائیں مجبور کرتی ہیں کہ ضمیر کی عدالت میں اس سے ثبوت بھی طلب کرلیا جائے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ اور نبیﷺ کی بات ہی ایسی ہے جسے کوئی شرط اور کوئی پابندی لگائےبغیر مانا جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اور نبیﷺ کی ذات کے علاوہ جو کوئی بھی ہو ، اس کی بات کسی نہ کسی شرط یا پابندی کے ساتھ ہی مانی جائے گی۔ اگر اس کی بات اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہیں ہے تو مان لی جائے گی ورنہ نہیں۔ یہ حیثیت صرف اور صرف اللہ کی ہے کہ اس کی بات شرطیں لگائے بغیر، بے چون و چرا ں مانی جائے گی۔ حتیٰ کہ رسول ؐ کی بات بھی صرف اس لیےمانی جاتی ہے کیونکہ وہ جو بھی کہتا ہے وہ اس پر وحی کیا گیا ہوتا ہے۔یہ مقام اور مرتبہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لائق نہیں ہے۔ اگر کوئی خدا کو یہ مقام اور مرتبہ دینے کا روادار نہیں ہوتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا کےحکم اور کسی انسان کے حکم کو ملک کے قانون کی حیثیت تب ہوگی جب تک اس بات کو اسمبلی کی دوتہائی اکثریت پاس نہ کردے تو اس نے خدا کو بندوں کا اور بندوں کو خدا کا مقام دے دیا ہے۔بندوں اور خدا کو ایک برابر کردیا ہے۔ قرآن اسے شرک کہتا ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کے دستور کا ہے۔چاہے کہنے کو یہ ’’حاکمِ اعلیٰ‘‘ اور ’’اقتدارِ اعلیٰ‘‘اللہ ربّ العزّت کا تسلیم کرتا ہے لیکن جو حیثیت دستور میں یہ اس ’’حاکمِ اعلیٰ‘‘کو دیتا ہے وہ کسی دوسرے انسان سے مختلف نہیں ہے۔ ایک طرف یہ کہا جائے کہ اصل اقتدار خدا کا ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ہی یہ شرط لگا دی جائے کہ جب تک خدا دو تہائی اکثریت نہیں لائے گا تب تک اس کا اقتدار بھی نہیں چلے گا۔ کیا آسمان اور زمین کے خالق اور مالک کی یہی حیثیت ہے؟ جس کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے نبی ؐ سے یہ کہتا ہے:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ O لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ O ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ O فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ O
’’اور اگر (بالفرض)یہ پیغمبر کچھ (جھوٹی )باتیں بنا کر ہماری طرف منسوب کردیتے ، تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے، پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کے لیے آڑے آسکتا۔‘‘(الحاقہ: 44-47)
جس روز وہ حساب لے گا تو اس کے جلال کے سامنے کسی کی زبان نہیں کھل پائے گی:
۔۔۔ وَخَشَعَت الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْساً O
’’اور خدائے رحمٰن کے آگے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی ، چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔‘‘(طٰہ:108)
جس کی قوت کا یہ عالم ہے کہ :
۔۔۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۔۔۔
’’حالانکہ پوری کی پوری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور سارے کے سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘(الزمر:67)
جس کے راج کا عالم یہ ہے کہ: اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً O
’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین بھی انہی کی طرح ، اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔‘‘(الطلاق:12)
اس کی زمین پر، اس کا دیا کھاتے ہوئے، اس کا دیا پہنتے ہوئے ، اپنے ملک کے دستور میں اس کی یہ حیثیت رکھی ہے!
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَاراً O
’’تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے بالکل نہیں ڈرتے؟‘‘(نوح:13)
کسی فوج کے سپہ سالار کو اس کے کمانڈر اور سپاہی یہ کہیں کہ بس تم ہی ہمارے سپہ سالار ہو ۔ تمہارے علاوہ ہمارا کوئی سپہ سالار نہیں ہے۔ جب وہ انہیں کسی کام کا حکم دے تو اسے جواب میں کہا جائے کہ اس حکم کو ہم حکم تبھی مانیں گے جب فوج کی دو تہائی اکثریت اسے تسلیم کرے گی۔ ویسے ہمارے سپہ سالار تم ہی ہو۔ یہ کیسا ذلت کا مقام ہےجو اس سپہ سالار کو دیا گیا ہے!!کوئی باغیرت ایسی ذلت برداشت نہیں کرتا کجا یہ کہ وہ ربّ العالمین ہو۔ اس کی غیرت بھی یہ چیزیں برداشت نہیں کرتی۔ زمین پر ایسا ننگا کفر اور اس کی ایسی اہانت کرکے بھی سینہ پھیلا کرکے چلتے رہنا صرف اس لیے ہے کہ:
لو کانت الدنیا تزن عندللّٰہ جناح بعوضۃ ما سقیٰ منھا کافرا شربۃ مآء
’’اگر دنیا کی اللہ کے ہاں اتنی حثییت بھی ہوتی جتنی ایک مچھر کے پر کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیاسےایک گھونٹ پانی بھی پینے کو نہ دیتا۔‘‘(ترمذی، ابنِ ماجہ)
مالک اسے مانا جائے اور جب وہ حکم کرے تو اسے دو تہائی اکثریت سے مشروط کردیا جائے۔ پھراس کے بعد بار بار دہرایا جائے کہ اقتدارِ اعلیٰ کےمالک تو تم ہی ہو۔ یہ اس سے کیسا کھلواڑ کیا جارہا ہے! کسی نے ہم پر چار پیسے بھی خرچ کیے ہوں تو اس کے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے اس کی جھوٹی سچی حمایت پر اتر آتے ہیں۔ پھر اپنے ربّ کے حکموں کے ساتھ اس کھلواڑ پر چہرے سرخ کیوں نہ ہوں! پیشانیوں پر بل کیوں نہ پڑیں!اس آئین کی نام نہاد تقدیس پامال کیوں نہ کی جائے! کیا یہ جان لینے کے بعد اب بھی اس کھلواڑ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے؟؟
(تحریر :محمد سعید حسن)


Comment