Announcement

Collapse
No announcement yet.

lessons from Baghdad,, past present future

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • lessons from Baghdad,, past present future

    Baghdad, a place a symbol of those who don't learn from History, and history always repeats for those who don't learn from it!

    ,

    The Mongol Invasion and the Destruction of Baghdad:

    ,


    ,

    ,


    Read the story below now:



    کاش! کہ ہم تاریخ سے سبق سیکھ لیتے تو آج خونِ مسلم یوں پانی کی طرح نہ بہتا …!!“______ضرور پڑھے اور شیئر کرے۔۔۔جزاک اللہ

    (مؤلف نے یہ کتاب ۲۰۱۰ء یعنی آج سے تقریباً چار سال پہلے لکھی تھی۔ اس مرد درویش نے جو کچھ بیان کیا تھا تو اس کی عملی جھلکیاں اہلِ پاکستان نے دیکھنی شروع کردی ہیں۔ جس کا سب سے بڑا عملی ثبوت ”سانحۂ راولپنڈی“ ہے۔ بس اگر فکر اور ہوش کے ناخن نہیں لئے گئے تو جو کچھ مؤلف نے حقیقت کی نگاہ سے دیکھ کر آگاہ کیا تھا، ان ہی حالات سے مسلمانان پاکستان کا سابقہ پڑرہاہے۔ اب... اگر ہم مسلمانوں نے اب بھی جہاد کی راہ کو نہیں اپنایا اور بزدلوں کی طرح پرامن پسندی کی راہ باطل پر چلتے رہیں تو پھر ہمارا حشر اور انجام بھی وہی ہوگا جو دنیا سے چمٹے رہنے والوں اور موت کے ڈر سے فریضہ جہاد ترک کرنے والوں کا اللہ تعالی نے سورہ توبہ میں بیان کیاہے۔اس لیے راہ باطل کے جمہوریت پسند داعیان کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چلنے کی بجائے راہ اسلام کے جہادی داعیان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس فریضہ جہاد کو ادا کریں، جسک کے بارے میں خود اللہ تعالی اور اس کے رسول نے کہا کہ جہاد کو چھوڑنے والے ہمیشہ ذلیل ورسوا ہونگے اور جہاد کو مضبوطی سے تھامنے والے ہمیشہ کامیاب وکامران ہونگے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو مغرب کے بتائے ہوئے احتجاجی طور وطریقوں کو چھوڑکراسلام کے بتائے ہوئے طریقہ جہاد کو اپنانے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین!)

    یہ ساتویں صدی ہجری (تیرھویں صدی عیسوی) کا بغداد ہے…خلافت بنو عباس کا دارالخلافہ بغداد…شہر بغداد، دنیا کے حسین ترین شہروں میں ہوتا ہے …دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہے…بازار کی رونقیں ایسی کہ اہل دنیا کے دل اس کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں…تفریح گاہیں ہیں کہ لوگوں کا اژدہام ہے…مدارس و خانقاہیں شائقین علم سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں …تمام عالمِ اسلام کا مرکز بغداد…دیکھنے والے کہہ سکتے تھے کہ اس کے شباب پر کبھی زوال نہیں آئے گا…

    بغداد کا ہر طبقہ اپنی اپنی دنیا میں مست تھا …حکمران محلات کی دنیا میں مدہوش …تاجر بازاروں کے اسیر…اہل علم علمی موشگافیوں کے شوق پالے…سب سوئے ہوئے سوائے چند کے…بلکہ خود فریبی کے نشے میں دھت …خطرات سے آنکھیں بند کئے بچی کھچی گنتی کی سانس پوری کررہے تھے…اس وقت…جب خطرات فصیلِ بغداد کے باہر پڑائو ڈال چکے تھے …ہلاکو خان لشکر جرار لے کر بغداد کا محاصرہ کرچکا تھا…لیکن عوام و خواص کی حالت جوں کی توں برقرار تھی…ایسا بھی نہ تھا کہ یہ آفت اچانک آگئی ہو…بلکہ فطرت کے اصول کے مطابق بہت پہلے سے ان کو بیدار کرنے کا سامان ہوچکا تھا…ان سے پہلے تاتاری لشکر سلطنت خوارزم کو تہہ بالا کرکے ملیا میٹ کرچکا تھا …لیکن خواب وخیال کی دنیا میں رہنے والے خوش تھے کہ ہماری باری کبھی نہیں آئے گی…بغداد کی باری کبھی نہیں آئے گی…ان کے نفس نے اس دعوے پر دلیلیں بھی گڑھ دی ہوں گی …کہ یہ دارالخلافہ ہے… یہ عالم اسلام کا مرکز ہے… یہاں علم کے پہاڑ بستے ہیں… ہزاروں کی تعداد میں مساجد ہیں… بڑی بڑی خانقاہیں ہیں… لیکن خواب تو خواب ہی تھے سوچکنا چور ہوئے… تاتاری بغداد کا محاصرہ کرچکے تھے …اور غافل تھے کہ نہ جاگنے کی قسم کھائے بیٹھے تھے…

    ۶۵۶ ہجری (1258ء) ”محرم کا آخری عشرہ“…تاتاری بغداد میں داخل ہوئے… اور ایسا قتلِ عام کیا کہ مؤرخ کا قلم اس ظلم کو زیرِ قرطاس لانے کی ہمت نہیں کرپاتا تھا… چالیس دن تک مسلمانوں کو قتلِ عام ہوتا رہا …نہ عورتیں بچیں نہ بچے …نہ بوڑھوں پر ترس کھایا گیا نہ بیماروں پر…نہ مساجد میں امان ملی نہ خانقاہیں محفوظ رہیں …صرف یہود ونصاریٰ کو چھوڑا گیا اور رافضیوں (شیعوں) کو… جس نے (خلیفہ کے) وزیر ابن علقمی کے گھر پناہ لے لی اس کو امان ملی… ابن علقمی خلیفہ مستعصم باللہ کا وزیر تھا… یہ غالی رافضی تھا …جس کے دل میں سنیوں کی نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی… حافظ ابن کثیر(رحمہ اللہ) نے البدایہ والنہایۃ میں لکھا ہے:

    ”اس کا مقصد اہل سنت والجماعت کی خلافت کو ختم کرکے …فاطمیوں (شیعوں) کی خلافت قائم کرنا تھا…وہ بغداد سے تمام سنیوں کو مٹانے کا خواہشمند تھا …مساجد و مدارس کو تباہ …اور خلیفہ اور اس کے خاندان کو نیست ونابود کرنا چاہتا تھا“

    چناچہ اس نے ملا نصیرالدین طوسی …جوکہ ہلاکو خان کا مشیر خاص اور غالی رافضی تھا …کے ذریعے چنگیز خان وہلاکو سے رابطہ استوار کیا…اور بغداد پر حملے کے لئے اکساتا رہا…جب ہلاکو خان نے بغداد کا محاصرہ کیا تو اسی (ابن علقمی) نے خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کے پاس جانے پر زور ڈالا…چناچہ خلیفہ سات سو سواروں کے ساتھ لے کر ہلاکو خان کے پاس روانہ ہوا…جن میں بغداد کے بڑے بڑے علماء، فقہاء، وزراء اور معتمدین شامل تھے… جبکہ خود ابن علقمی ان سب سے پہلے مع خاندان کے ہلاکو خان کی پناہ میں جاچکا تھا…

    خلیفہ اور ہلاکو میں مذاکرات ہوئے …ایک مرحلے پر ہلاکو مان گیا اور بعض شرائط کے ساتھ واپس جانے پر راضی ہوگیا …لیکن عین اس وقت پر (رافضی) ابن علقمی اور نصیر الدین طوسی نے ہلاکو خان کے کان بھرے اور مذاکرات ناکام کرادیئے…(آج بھی ابن علقمی کی اولاد یہی کام کررہی ہے)… خلیفہ کے ساتھ ان تمام علماء وفقہاء کے بارے میں بھی ابن علقمی نے قتل کا مشورہ دیا …جو خلیفہ کے ساتھ آئے تھے…اس غدار نے اسی پر بس نہیں کیا …بلکہ خلیفہ کے محل سے عورتوں اور بچوں کو پکڑواتا اور ایک ایک کرکے ان کو بکریوں کی طرح ذبح کراتا…خلیفہ کے تمام رشتہ داروں کو اسی طرح ذبح کیا گیا…اس کی خواہش تھی کہ بغداد کے سنیوں کے مدارس کی جگہ …شیعوں کے مدارس قائم ہوں…مساجد کی جگہ امام باڑے ہوں …یہ وہی بغداد تھا …رونقیں …جگماہٹیں …ہنگامے …رعنائیاں …جلوتیں اور خلوتیں…لیکن اب کچھ بھی نہیں بچا تھا… یہ تاریخ پڑھ کر …اہل بغداد کی سستی …کوتاہ اندیشی…اور خوش فہمی …ابھی تک آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہوگی کہ …دشمن کو بغداد کے دروازے پر دیکھ کر بھی…کیونکر وہ لوگ دشمن سے …جہاد کے لئے تیار نہیں ہوئے…

    عراق سے سنیوں کا خاتمہ (کی خواہش)… یہ ایسا کڑوا سچ ہے جو اب ہمیں تسلیم کر ہی لینا چاہیے کہ …یہودی اور دیگر اسلام دشمن قوتیں… اہل سنت اور اہل تشیع کو الگ الگ حیثیت میں دیکھتی ہیں… یوں تو تمام تاریخ اسلام اس پر شاہد ہے …لیکن عراق کے اندر جو کچھ (حال ہی میں) امریکیوں نے کرایا اس نے ہر ایک کی آنکھیں کھول دی ہیں… یہ مکمل منصوبہ تھا …جس کے تحت عراق کی سنی اکثریت کو …اقلیت میں تبدیل کیا جانا تھا…امریکہ کو اس میں ایران کی مکمل حمایت حاصل تھی …اس منصوبے کے تحت سنی آبادیوں پر جہازوں …اور ہیلی کاپٹروں سے بمباری کرکے بستیوں کو اجاڑ دیا گیا …اور بچ جانے والوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا …(دوسری طرف) بلیک واٹر کے ساتھ محمد باقر حکیم (رافضی) کے مسلح غنڈوں کے ذریعے سنیوں کے محلوں پر حملے کئے جاتے …اور آبادی کی آبادیوں کو اس طرح ملیا میٹ کردیا جاتا کہ پیچھے رونے والے بھی باقی نہ بجتے …بغداد، فلوجہ، تلعفر، موصل، سمارا، رمادی اور بصرہ میں …صحافیوں نے ایسا قتلِ عام دیکھا کہ غیر مسلم بھی اس کو برداشت نہ کرسکے… چناچہ امریکی صحافی اسٹیفن نے روافض کے جرائم سے پردہ اٹھایا …اس کا کالم نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا …اس کے کالم کے چار دن بعد اس کی لاش کہیں سڑک پر پڑی پائی گئی… سنیوں کا یہ قتل عام اس قدر بڑے پیمانے پر تھا کہ وہ لوگ بھی چیخ پڑے …جو شیعہ سنی اختلاف پر یقین نہیں رکھتے تھے…

    بلیک واٹر کو مختلف رافضی گروہوں کو کرائے پر لیا اور ان کے ذریعے یہ سب کچھ کیا گیا…چونکہ ان کو سنیوں کے ایک ایک گھر کی معلومات تھیں…لہذا انہوں نے منظم انداز میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا… صرف فلوجہ شہر کے اندر ۱۴۹ سنی خواتین کی عزتیں مسجد میں لاکر تار تار کی گئیں… اس کے علاوہ مساجد ومدارس… سنیوں کے بڑے بڑے تجارتی مراکز اور فیکٹریاں …سب کچھ تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا… جمعہ کے دن نمازیوں سے بھری مسجدوں کی چھتیں …بارود لگاکر نمازیوں کی اوپر گرادی گئیں…

    پاکستان میں اہل حق کے خلاف… عراق والا طریقۂ کار استعمال کیا جائے گا… آج ایک نہیں کتنے ہی ابن علقمی ہیں …جو ابن علقمی کے خواب کی تعبیر دینے کے لئے… دن رات ایک کئے ہوئے ہیں…کتنے ہی نصیرالدین طوسی ہیں …جو ہلاکوئے وقت کے مشیر بنے بیٹھے ہیں… راز بیچنے والے پاکستان کے سیاہ وسفید کے مالک ہیں… پیغامات اور خصوصی پیغامات لے کر خصوصی ایلچی …کبھی تہران جاتے ہیں اور کبھی لندن …نادرا سے ڈیٹا حاصل کرکے …نقشوں پر سرخ نشانات لگائے جارہے ہیں… دکانوں…تجارتی مراکز …فیکٹریوں اور گلی محلوں کی تفصیل تیار ہوچکی ہے …کہاں دوست ہیں اور کہاں دشمن …کہاں پرامن شہری ہیں …اور کہاں دہشت گردوں کے ہم مسلک…

    دیکھئے اگر آنکھیں ہیں… سنئے اگر سماعت نے ساتھ نہیں چھوڑا …محسوس کیجئے اگر حواس باقی ہیں… یہ تقسیم ہوتا اسلحہ …مخصوص مدت کے لئے کھلنے والے اسلحہ لائسنس… اس آگ کی تپش کو محسوس کیجئے جس نے ابھی صرف بولٹن مارکیٹ (اور حال ہی میں پنڈی میں راجہ بازار) کو خاکستر کیا ہے…

    لیکن یہ سب ان کے لئے ہے …جن کو اللہ نے آنکھیں دی ہیں جو دیکھتی ہیں …کان دیئے ہیں جن کی قوتِ سماعت ختم نہیں ہوئی …اور احساس ہے کہ ابھی مردہ نہیں ہوا… وہ جانتے ہیں کہ حالات ہمارے بیان سے بھی زیادہ نازک اور خطرناک ہیں… نہ اسلحہ کسی سے پوشیدہ ہے …نہ اہل حق کے بارے میں تفصیلی معلومات اکٹھا کیا جانا …ڈھکی چھپی بات ہے… بلیک واٹر کے ساتھ کون ہیں …برطانیہ امریکہ کے ساتھ کس کی خفیہ گٹھ جوڑ ہے …سب کے سامنے ہے…

    علمائے حق باطل قوتوں کے نشانے پر ہیں… لہذا قبل اس کے چن چن کر ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنتے رہیں …اٹھنا ہوگا …(لیکن) انتہائی حیرت کی بات ہے کہ …جب خطرات سانپ کی طرح پھن پھیلائے سامنے کھڑے ہیں …اس نازک وقت میں اہل حق میں …حرارت کے آثار نظر نہیں آرہے …حالانکہ یہ وہ طبقہ ہے… جو خطرات کی بو دور سے ہی سونگھ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے… لیکن فی الوقت خطرات …ان کے سروں پر برسنا شروع ہوگئے ہیں… لیکن کیا وجہ ہے کہ …ہر ایک دوسرے کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے…کبھی دل کرتا ہے کہ ان بندگانِ خدا کے دروں پر جاکر …پوچھیں تو سہی کہ …پتھروں کو زبان عطا کرنے والوں پر …یہ خاموشی سی کیوں طاری ہے…؟ آخری حدیث پڑھاتے وقت… جو ’’خوئے بغاوت‘‘ بطور سند تقسیم کی جاتی تھی… اس کی جگہ کہیں ’’حکمت و مصلحت‘‘ نے تو نہیں لے لی…؟ شوقِ بالاکوٹ اور تمنائے شاملی دل کو گرماتی ہے …یا لندن و واشنگٹن کی سحر انگیزی نے… دین کی خدمت کے ’’جدید تقاضے‘‘ سکھادیئے ہیں… اللہ ان گناہ گار آنکھوں کو وہ دن نہ دکھائے کہ جب اس مکتبہ فکر کے رجال کا قتل عام کیا جائے …ان کے مساجد و مدارس کی چھتیں انہی پر گرادی جائیں …کاش! ایسا نہ ہو اور سب کچھ اچھا ہی چلتا رہے…

    لیکن نہ جانے کیوں پھر…اس سیاہ کار کی آنکھوں کے سامنے…درختوں سے لٹکی اس طبقے کے مردان حر کی لاشیں آجاتی ہیں …جن کو ۱۸۵۷ء کے بعد …دہلی کی جامع مسجد سے دہلی دروازے تک …درختوں پر اس طرح سجایا گیا تھا …جیسے شادی بیاہ میں …ہر دیوار اور منڈھیر پر چراغ سجادیئے جاتے ہیں… پھر دل کو تسلی دے لیتا ہوں کہ …وہ پرانے دور کی باتیں تھیں …یہ جدید دور ہے …معلومات اور آگاہی کا دور …لہذا انگریزوں جیسا ظلم آج نہیں کیا جاسکتا …لیکن پھر اپنوں کے ساتھ کچھ خوفناک ہوجانے کے اندیشہ سے بے چین ہوجاتا ہوں …پھر معلومات کے دور کا فلوجہ نیندیں اڑادیتا ہے …فلوجہ مقتل گاہ …ایک خاص مکتبہ فکر کی مقتل گاہ…قبل اس کے کہ امریکہ …پاکستان میں اپنی مرضی کی جنگ مسلط کرے …اہل حق کو اس جارحیت کے خلاف اٹھنا ہوگا …عوام کو ساتھ لے کر …آنے والے حالات سے نمٹنے کے لئے …تیاری ناگزیر ہے… غم اور کچھ بھی نہیں …صرف اتنا سا ہے کہ یہ آنکھیں… آپ کے گلی محلوں اور بستیوں کو …فلوجہ بنتے دیکھنے کی تاب کہاں سے لائیں گی…

    اگر چہ نفس بارہا زباں بندی کی فضیلت سناتا ہے …کہ جہاں لوگ آرام سے سورہے ہیں …وہاں شور شرابہ کرنا …سوتوں کو جگانا … بدتہذیبی سمجھی جاتی ہے …لیکن پھر دل ہے …ڈرتا ہے کہ کہیں اپنوں کے ساتھ …وہ کچھ نہ ہوجائے… جو علمائے عراق کے ساتھ ہوا… آنکھوں کے سامنے پھر وہی منظر گھوم جاتے ہیں …سرزمین دجلہ و فرات کے مناظر …اذان کی آوازوں سے گونجتے مینار …اذان دینے والوں پر گرادیئے گئے… سجدے میں پڑے سبحان ربی الاعلیٰ کہتے نمازیوں پر …مسجدوں کی چھتیں گرادیں گئیں… باحیاء عرب بیٹیا ں اور بہنیں …موت کی تمنا کرکے جئیں …یا کسی محمد بن قاسم کے انتظار میں …ابلیسی تہذیب کے بچاری …امریکی فوجی …بلیک واٹر …اور وہ طبقہ جن کا شجرۂ نسب …’’ابن علقمی‘‘ سے ملتا ہے… پورے محلے کا محاصرہ کرکے تمام عورتوں کو اٹھاکر لے جاتے …سفید ریش بوڑھوں کو داڑھیاں پکڑ کر سڑکوں پر گھیسٹتے …اور نوجوانوں کو قطار میں کھڑا کرکے نشانہ بازی کرتے …نشانہ ایک ہی طبقہ بنا…

    دوست شاید محسوس کریں کہ …صرف فلوجہ ہی کا ذکر بار بار کیوں…؟ کشمیر …بھارت …افغانستان کو کیوں بھول گئے…؟ سب یاد ہیں… لیکن جو سبق پاکستان میں موجود اہل حق کے لئے …فلوجہ میں ہے …وہ کسی میں نہیں …فلوجہ میں قتلِ عام …اپنے اندر بے پناہ عبرتیں اور سبق سمیٹے ہوئے ہے… پاکستان کے لئے عراقی پیٹرن روبہ عمل لائے جائے گا …قاتل کون تھے…قاتلوں کی رہنمائی کرنے والے کون تھے… اور مقتول کون …؟ کون سسکیاں، آہیں اور چیخیں کس کی گونجتی تھیں… قہقہے اور نعرے لگانے والے کون تھے…؟

    مختصر یوں کہہ لیجئے کہ …فلوجہ اہل پاکستان کی …ایسی ویڈیو فلم ہے …جو پہلے سے بنالی گئی ہے…اپنا مستقبل دیکھنے کے لئے …فلوجہ کی کہانی غور سے پڑھئے …جس نے فلوجہ کو پڑھ لیا …اس کے لئے مستقبل میں …پاکستان میں ہونے والا سب کچھ اس طرح ہوگا …گویا کہ وہ فلوجہ ہی کی ویڈیو دیکھ رہا ہے …حملہ آور بھی وہی …حملے کے نشانے پر بھی وہی …قاتل بھی فلوجہ جیسے …اور مقتول بھی فلوجہ کی طرح … یہ کمزور دل چٹانوں کے دل چاک کرتی …ان بہنو ں کی چیخوں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں …فلوجہ کی ان بہنوں کی آواز پر آج کے محمد بن قاسم …”ابو مصعب زرقاوی“ نے لبیک کہا تھا …کیا کوئی ہے جو کراچی سے گلگت …اور کشمیر سے قبائل تک …بلیک واٹر …امریکی میرین …اور ان کے کرائے کے (پاکستانی) فوجیوں کے مقابلے میں …ابو مصعب زرقاوی بن سکے …کوئی ہے جو تمام مصلحتوں …خودفریبی کی حکمت عملیوں …اور خوف کے سایوں سے جان چھڑاکر …بیک وقت …اسلام کے تمام دشمنوں کے مقابلے کے لئے …تنہا اٹھ کھڑا ہو… تب جاکر مسلمانانِ پاکستان کو بچایا جاسکے گا …

    اہل حق کے لئے ضروری ہے کہ …جس انداز میں دشمن ہمیں مٹانے کی منصوبے بنارہا ہے …اسی انداز میں اس کو جواب دیا جائے…زندگی کی بھیک مانگ کر …یا چند سانسیں قرض لے کر …جی لینے کا نام زندگی نہیں …ایسی زندگی سے موت ہزار درجہ بہتر ہے… وقت بہت مختصر ہے …خصوصاً گلگت …کراچی … اور اہل پنجاب کے لئے …اپنے محلوں اور شہرو ں میں موجود مجاہدین کی قدر کیجئے …وہ وقت بہت قریب ہے کہ جب لوگ تمنا کریں گے کہ: …کاش! ہمارے گھر میں کوئی ایک مجاہد ہوتا …اہل محلہ ترسیں گے کہ …کاش! محلے میں کوئی ایک ہی مجاہد ہوتا …جو آج ہمارے گھروں میں گھستے بھیڑیوں کے جبڑوں میں ہاتھ ڈالنے کی ہمت کرتا …ان مجاہدین کی قدر عراق کے سنیوں سے پوچھئے…

    یہ منظر دجلہ و فرات کی سرزمین نے دیکھا ہے …آپ بھی اس منظر کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے…مسلمانوں کے محلوں کا محاصرہ کرکے سب کچھ لوٹ لیا جاتا… ساری عمر کی کمائی …عزت… جان ومال …سب کچھ تباہ کرکے چلے جاتے …صرف پیچھے …سلگتے کھنڈرات …چربی جلنے کی بو…وہ پتھرائی آنکھیں جو زخمی حالت میں ہوتیں …یہ منظر دیکھنے کے لئے زندہ چھوڑ دیا جاتا…سیکڑوں کی آبادی میں کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا …جو امریکہ اور ان کے ایجنٹوں کے مقابلے میں اسلحہ چلانا جانتا ہو…

    اگر آپ اپنی عزت …دولت… گھر بار… بیوی بچوں …ملک اور سب سے بڑھ کر … اپنا دین بچانا چاہتے ہیں …تو حملہ آور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کرلیجئے …اگر آپ اپنے گلی محلوں کو فلوجہ …بغداد…اور رمادی بنتا نہیں دیکھنا چاہتے …تو ابھی سے بیدار ہوجائیے …ورنہ یاد رکھئے …لکھنے والے کا قلم …ان مناظر کو لکھنے سے …عاجز آجائے گا …پاکستانی مسلمانوں کے خلاف…کفار کی نفرت …عراق کے مسلمانوں سے زیادہ ہے …جی ہاں! اہل بوسنیا سے بھی زیادہ…

    اگر ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں مگن ہوں …اور اپنے اردگرد کےـ حالات بے خبر ہوجائیں …اپنے محلے پڑوس میں لہراتے اسلحہ سے آنکھیں بند کرلیں …اور اپنے خلاف زہر اگلتے نعروں سے کان بند کرلیں… تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے… پھر ہمیں یوں لگے گا کہ … یہ سب باتیں مبالغہ آرائی …اور لوگوں کو بلاوجہ ڈرانے کے لئے ہی کی جارہی ہیں …نہ یہاں امریکہ آئے گا …نہ بلیک واٹر کو اتنی ہمت ہے کہ … وہ پاکستان جیسے ایٹمی ملک میں …یہ سب کرسکیں …یقیناً ایسے لوگ ہیں جو آج بھی ایسی باتیں کرتیں ہیں… لیکن یہ آخری درجے کی غفلت ہے …اور غفلت کا دوسرا نام ’’تباہی‘‘ ہے …

    باتیں بہت ہیں …لیکن یہ وقت عمل کا ہے …اگر آپ کو اپنے ملک سے پیار ہے …اپنے دین سے پیار ہے… اپنا کاروبار جو آپ نے دن رات کی محنت کرکے کھڑا کیا ہے …بیوی بچے جو آپ کا کل سرمایہ حیات ہیں …ان سب کے دفاع کے لئے آپ کو خود ہی اٹھنا ہوگا …ہوشیار وہی ہے جو مصیبت میں گرفتار ہونے سے پہلے …اس سے بچنے کی تدبیریں کرلے… دانا وہی ہے جو جنگ سے پہلے جنگ کی تیاری کرلے…

    ذیل میں چند آسان تجاویز ہیں جو اُن کے لئے ہیں … جو جینا چاہتے ہیں …اور جو خودکشی کا فیصلہ کرچکے ہیں …اُن کو کوئی کیا کہہ سکتا ہے …اگر آپ تیاری کریں تو …اللہ تعالیٰ اسلام کے دشمنوں پر رعب ڈالیں گے …اور آپ کی مدد بھی فرمائیں گے …لیکن اگر آپ تیاری نہیں کریں گے …اور خاموشی سے گھروں میں دبکے بیٹھے رہیں گے …تو آنے والے حالات ٹل نہیں جائیں گے:
Working...
X