شام میں صفوی جرائم... ہماری دینی جماعتیں ایرانی مظالم پر خاموش کیوں؟
ابنِ علی
ایک مسئلے پر قرضاوی(۱) بول پڑتے ہیں۔ مرسی (۲)چیخ اٹھتے ہیں۔ اخوان کی قیادتیں(۳) دہائی دینے لگتی ہیں؛ اور مصری نوجوانوں کو کھلے عام ترغیب دیتی ہیں کہ شام میں حزب اللہ اور ایران کے قاتل دستوں کے ہاتھوں لٹتی عصمتوں کو تحفظ دینے اور سنی خون کی ان بہتی ندیوں کو روکنے کےلیے جو ہوسکتا ہے کر گزریں۔ اردگان، شام میں یہ مظلوم خون بہتا نہیں دیکھ سکتے اور ان کی مدد کےلیے میدان میں اترنے والوں کےلیے اپنے ملک کی سرحدیں کھول دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں (اور جس کی اب وہ سزا بھی بھگت رہے ہیں)۔ غنوشی (۴)شام میں مسلح جہاد کی بات کرنے لگتے ہیں۔ زندانی(۵) (یمن کے نہایت مشہور عالم جو اخوان ہی کے منہج پر ہیں) حزب اللہ اور ایران کی خونریزی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا فتویٰ دینے لگتے ہیں۔ کیا یہ سب لوگ... یہ قرضاوی، یہ زندانی، یہ غنوشی، یہ مرسی، یہ مرشد الاخوان المسلمین، یہ اردگان، یہ عبد اللہ گل... کبھی آج تک ’شیعہ سنی‘ لڑائی کے لیے نعرے مارتے دیکھے گئے ہیں؟ کیا یہ سب لوگ... یہ قرضاوی، یہ زندانی، یہ غنوشی، یہ مرسی، یہ مرشد الاخوان المسلمین، یہ اردگان، یہ عبد اللہ گل... ’اتحادِ امت کو پارہ پارہ‘ کرنے کی کوششوں میں ملوث پائے گئے؟ ’ملی یکجہتی‘ کے بدخواہوں میں شمار ہوئے ہیں؟ حضرات کیا ان سب لوگوں کا منہج ہمیشہ سے لےکر عین وہی نہیں رہا جو ہماری یہاں کی تحریک اسلامی کے ہاں پایا گیا ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری جماعتِ اسلامی، ہماری تحریک اسلامی اور ہماری تنظیم اسلامی شام میں ایرانی مظالم پر مسلسل خاموش ہیں اور ایران کو اس پر تنبیہ کرنے تک کی روادار نہیں؟
*****
ایک مسئلے پر مصر کے سب سلفی چیخ پڑتے ہیں۔ شیخ حسان(۶) (مصر کی معروف ترین سلفی شخصیت) جہاد کی صلائے عام دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؛ بلکہ اس کےلیے تحریک چلاتے پھرتے ہیں۔ شیخ محمد عبد المقصود(۷) ، جن کو اس وقت مصر کا سب سے بڑا محدث کہا جاتا ہے شام میں گاجر مولی کی طرح کٹتے اہل سنت کے دفاع کےلیے جہاد کی نفیر عام کرنے لگتے ہیں۔ شیخ البانی کے سب سے معروف شاگرد اور علمی جانشین شیخ ابو اسحاق الحوینی(۸) (مقیم مصر) شام میں جہاد کو ’’فرض عین‘‘ تک کہنے چلے جاتے ہیں۔ شیخ البانی کے ایک دوسرے نامورترین شاگرد شیخ عدنان عرعور(۹) تو، جوکہ خود شام سے ہیں (حالیہ مقیم سعودی عرب) نہ صرف دو سال سے اِس جہاد کے حق میں مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں بلکہ جہادِ شام کے قائدین کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔ مصر کی سکہ بند سلفی جماعت انصار السنۃ المحمدیہ کے سربراہ عبد اللہ شاکر(۱۰) جہاد کی منادی کرنے والوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ’’سرکاری علماء‘‘ کے فتویٰ کی کمی تھی تو یہ لیجئے حالیہ شیخ الازہر احمد الطیب(۱۱) اور مصر کے وزیر اوقاف طلعت عفیفی (۱۲)جہادِ شام کے حق میں فتوائے عام دے رہے ہیں۔ بلکہ ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ تک کا حکم دے رہے ہیں(۱۳) ۔ کسی ظلم کی مذمت جائز ہونے کےلیے سعودی عرب کی کسی شخصیت کے لب ہلنے کی شرط تھی تو یہ لیجئے سعودیہ کی معروف ترین داعی شخصیت شیخ محمد العریفی (۱۴)جو مصر کی مشہور ترین مسجد جامع عمروبن العاص میں خطبۂ جمعہ ارشاد کرتے ہوئے جہادِ شام کی حمایت کا اعلان کرکے آتے ہیں۔ سعودی عرب کے ممتاز محدث و عالم دین عبدالعزیز طریفی(۱۵) نُصَیری وایرانی مظالم کے خلاف اور اس جہاد کے حق میں تائید کا علم بلند کرتے ہیں۔ اور اگر کسی ظلم کو ظلم کہنے کےلیے سعودی عرب کی سرکاری حیثیت رکھنا ہی ضروری تھا تو یہ لیجئے امام کعبہ شیخ سعود الشُریم (۱۶)مسجدِ حرام مکہ مکرمہ کےمنبر سے کھڑے ہوکر نہ صرف شام میں ہونے والے اس ظلم وبربریت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی بابت جو اسے ’مسلمانوں کے آپس کا فتنہ‘ قرار دیتے ہیں امام شُریم کہتے ہیں کہ ’’ یہ حنوط شدہ لاشیں ہیں کیونکہ اگر اندھے اور بہرے بھی ہوتےتو جان لیتے کہ یہ ایک عقیدہ کی جنگ ہے مگر سینوں میں پڑے دل ان حقیقتوں کو دیکھنے سے اندھے ہوجاتے ہیں‘‘، نیز شیخ شریم اپنے اسی خطبۂ جمعہ میں فرماتے ہیں کہ شام میں جاری یہ جنگ ویسی ہی ایک جنگ ہے جو معرکۂ شقحب کی صورت میں حملہ آور تاتاریوں کے خلاف لڑی گئی تھی (اور جس کی قیادت امام ابن تیمیہ نے فرمائی تھی)... یہ سب سلفی، سب سرکاری شخصیات جو ’ولی الامر‘ کے کہے سے باہر نہیں، یہ سب سعودی علماء شام میں اِس صفوی قتل عام پر چیخ پڑتے ہیں، مگر ہمارے یہاں کی سلفی جماعتیں ٹس سے مس ہونے پر تیار نہیں۔ آخر اس کے بعد وہ کونسا ظلم ہوگا جو ایران اور حزب اللہ کے جلاد شام کے اہل سنت پر کریں تو ہمارے یہ ’سلفی منہج‘ کے پابند حضرات اس پر آواز اٹھانا جائز سمجھیں گے؟ معاویہ بن ابی سفیانؓ کے دیس پر اس سے بڑھ کر کیا گزرے گی جس پر ہمارے یہ حضرات بول اٹھنے کے روادار ہوں؟ ولید بن عبدالملکؒ اور عمر بن عبدالعزیزؒ کے دارِ خلافت کی پامالی آلِ مجوس اس سے بڑھ کر کیا کریں گےتاآنکہ ہمارے یہ سلفی وسنی حضرات اس پر احتجاج کرنا ضروری جانیں؟
*****
اور اگر کسی کو دمشق، حلب، حمص، دِرعا، اِدلِب اور قصیر میں سنی خون کی یہ بہتی ندیاں دیکھ کر اس پر آواز اٹھانے میں محض یہ ’تحفظ‘ مانع ہے کہ اس میں امریکہ ملوث ہے، اور جوکہ اب تک شام کے معاملے میں صرف زبانی جمع خرچ کرتا چلا آیا ہے،جبکہ اقوامِ متحدہ کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق اب تک – یعنی کسی بھی امریکی امداد کے پہنچنے سے پہلے پہلے تک – شام میں 93 ہزار شہادتیں ہوچکی ہیں... کسی کو شام میں ایرانی نُصَیری مظالم کے خلاف آواز اٹھانے میں اگر محض یہ ایک بات مانع ہے کہ اس میں امریکہ اور یورپ کا بھی نام آتا ہے تو پھر یہ لیجئے تنظیم القاعدۃ جو پچھلے ڈیڑھ عشرے سے امریکہ اور یورپ کے خلاف برسرپیکار ہے، جہادِ شام کا علم بلند کرنے والے مجاہدین میں سرفہرست ہے۔ حزب التحریر ایسی ایک امریکہ مخالف تنظیم اِس جہادِ شام کے اندر پیش پیش ہے۔
*****
حضرات کیا آپ دیکھ نہیں رہے یہ پوری امت کا جہاد ہے، اور کوئی ایک بھی طبقہ اس سے پیچھے نہیں۔ اخوان، سلفی، صوفی، القاعدۃ، حزب التحریر، عامۃ الناس، حکومتوں کے حمایتی، حکومتوں کے مخالف، غرض پوری قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے۔ پچھلے ایک طویل عرصے سے کسی بھی خطے کے جہاد پر شاید اتنے مختلف الخیال طبقے یک آواز نہ ہوئے ہوں جتنے کہ جہادِ شام کی نصرت وحمایت پر۔
*****
نہ جانے ایرانی پراپیگنڈہ مشینری ہمارے یہاں کے اسلام پسندوں کی آنکھ میں دھول جھونک رہی ہے یا ہمارے یہ حضرات خود ہی اس قدر زیادہ ’باخبر‘ ہیں! حالانکہ یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ ایک جہاد اگر امریکہ کے اشاروں پر کیا جارہا ہو تو القاعدۃ اس میں کس طرح شریک ہوسکتی تھی؟ فرمانے لگے: یہ امریکہ اور القاعدۃ کے مابین ڈرامہ ہے! القاعدۃ اور امریکہ جن کے مابین پچھلے ڈیڑھ عشرے سے جنگ جاری ہے اور طرفین ایک دوسرے کا اتنا اتنا نقصان کرچکے ہیں کہ اس پر شک کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا۔ ماشاء اللہ، امریکہ اور القاعدۃ کے مابین تو ہے نرا ڈرامہ... البتہ امریکہ اور ایران کے مابین ڈرامہ ناممکن ہے!!!جبکہ ہر آدمی جانتا ہے پچھلے تین عشروں سے دونوں (امریکہ اور ایران) ایک دوسرے کے خلاف صرف بڑھکیں لگا رہے ہیں۔ بتائیے تو کیا نقصان کیا ہے آج تک ایران نے امریکہ کا اور امریکہ نے ایران کا؟ ’ڈرامہ‘ ابھی پھر دوسرے لوگ کررہے ہیں! اور اس نام نہاد ڈر امے میں صرف القاعدۃ اور طالبان ہی نہیں اب خیر سے حماس، اخوان، سلفی، ترکی، حزب التحریر سب شامل ہوگئے ہیں! اور بچا کون جو ابھی تک یہ ’ڈرامہ‘ نہیں کررہا، بلکہ جس کے خلاف یہ سب ’ڈرامہ‘ ہورہا ہے؟ ایران!!! وہ ’سچا کھرا، صاف گو، تقیہ سے پاک اور حق پرست‘ ایران جس کو امریکہ کے ساتھ جنگ کی اپنی دیرینہ حسرت پوری کرنے کےلیے آج تک کبھی افغانستان نظر آیا اور نہ عراق جہاں اس کا اپنا پڑوس تھا اور جہاں امریکہ ایک عشرے سے دندناتا پھرتا ہے۔ اِس امریکہ کے خلاف ’اعلانِ جہاد‘ کےلیے کونسا محاذ چنا جاتا ہے اور کس بیچارے کو اسلحہ کی دھار پر رکھا جاتا ہے؟ ’’شامی عوام‘‘ جو تیونس، لیبیا اور مصر کی طرح اپنے ملک میں ڈکٹیٹر کو ہٹانے کےلیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی!!! سبھی کو معلوم ہے شام کا بچہ بچہ اس نُصَیری کمیونسٹ ڈکٹیٹرشپ سے نجات پانے کےلیے تڑپتا رہا ہے اور جوکہ خطہ میں روس کا اہم ترین اتحادی رہا ہے ۔(۱۷)
ہمارے یہاں کے دینی حلقوں کو شام کی صورتحال سے کچھ زیادہ ہی واقف ہونے کا زعم ہو تو الگ بات ہے۔ ورنہ عرب خطے کا کوئی ایک بھی طبقہ جو رافضی نہیں ہے جہادِشام کے مبنی بر حقیقت ہونے کا منکر نہیں، جیساکہ ہم پیچھے بیان کرچکے۔ خطے کی سب تنظیمیں، سب دینی حلقے دہائی دے رہے ہیں کہ شام کی ڈکٹیٹر حکومت ایران اور حزب اللہ کے تعاون سے خطے کو آگ اور خون کا دریا بنا چکے ہیں اور یہ کہ معاملہ اس قدر آگے جاچکا ہے کہ اس کو جس بھی طریقے سے ممکن ہو روکنا ضروری ہے۔ البتہ ہمارے یہاں کے دینی حلقے ہیں جو نہ صرف اس پر کوئی پریشانی نہیں رکھتے بلکہ اپنے اس اطمینان اور خاموشی کا عذر ’امریکہ کے ملوث ہونے‘ میں تلاش کررہے ہیں!
ڈکٹیٹرشپ کے خلاف یہ عوامی بغاوت شام میں پچھلے ڈھائی سال سے جاری ہے۔ 2011 کا پورا سال، 2012 کا پورا سال، اور 2013 کا آدھا سال... کیا ہم ان ’باخبر‘ حضرات سے پوچھ سکتے ہیں کہ امریکہ نے یہ تمام عرصہ مجاہدین کو شام میں دیا کیا ہے؟ اقوامِ متحدہ کے نصف جون 2013 تک کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ شام میں شہادتوں کی تعداد 93 ہزار تک پہنچتی ہے۔ اس تاریخ تک امریکی امداد کا کوئی ایک ذرہ کسی مجاہد تنظیم کو نہیں پہنچتا۔ یعنی 93 ہزار شہادتیں ایک طرف (اور جوکہ امریکی امداد کی غیرموجودگی میں ہی ہوئی ہیں)... اور امریکہ کا زبانی جمع خرچ ایک طرف، جس کے باعث 93 ہزار شہادتیں بےوقعت ٹھہرا دی جاتی ہیں! کیا یہ بےحسی اور غیرذمہ داری کی انتہا نہیں ہے؟
امریکی امداد تو روس کے خلاف افغان جہاد کے دوران بھی آتی رہی ہے، اور بالفعل آتی رہی ہے (شام میں تو کم از کم نصف جون 2013 تک امریکی امداد سنی تک نہیں گئی)۔ افغان جہاد کے اُن برسوں کو آپ جہاد نہیں مانتے رہے؟ بلکہ آپ میں سے کئی جماعتیں کسی نہ کسی حیثیت میں یا کسی نہ کسی مرحلہ میں اس کے اندر شریک نہیں رہیں؟
کون نہیں جانتا، کمیونسٹ بلاک کی حکومتوں کے معاملہ میں امریکہ اور اس کا پورا مغربی بلاک ہمیشہ ایسا کرتا ہے۔ صربیوں نے ہمارے مسلم بوسنیا میں خون کی بدترین ہولی کھیلی؛ وہاں امریکہ اور اس کے مغربی حلیف مہینوں تک اسی طرح بڑھکیں مارتے رہے تھے یہاں تک کہ بوسنوی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا اور ہم ’امریکی حمایت‘ کو بہانہ بنا کر بڑے آرام سے خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہے۔ اس کے چند سال بعد جب مسلم کوسووا پر صربی مظالم توڑے گئے وہاں بھی امریکہ کوسووا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک دہائیاں دیتا اور سرد آہیں بھرتا رہا جب تک کوسووی مسلمانوں کا ستیاناس نہیں کردیا گیا اور ہم وہاں بھی اپنے اسی زعم میں سرشار کہ امریکہ جن مسلمانوں کے حق میں بولتا ہے ضرور ان کی دال میں کچھ کالا کالا ہے لہٰذا ایسے مسلمانوں کی مدد کےلیے کچھ کرنا یا ان کے حق میں بولنا ہم پر بحقِ شریعت ممنوع ہوجاتا ہے! یعنی جب بھی امریکہ کسی خطے کے مسلمانوں کے حق میں مگرمچھ کے آنسو رو دے ہم اس خطے کے مسلمانوں کوکافروں اور ظالموں کے رحم وکرم پر چھوڑ آیا کریں! یہاں، یعنی شام میں، بھی کہانی وہی ہے: روس اور اس کا ایک اتحادی جو اتفاق سے ایران کا منظورِ نظر بھی ہے کھل کھلا کر سامنے آئے ہیں؛ اور ظاہر ہے جہاں روس ہے وہاں امریکہ کو بھی اپنا حساب برابر کرنا ہے۔ امریکہ خواہ عملاً کچھ نہ کرے مگر کچھ کارگزاری اس کو یہاں بہرحال دکھانی ہے۔ حضرات کیا یہ چیز اہل شام کی قربانیوں کو رائیگاں ٹھہرانے کی دلیل بن سکتی ہے؟
اصل چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ شام کا یہ معاملہ شروع کیسے ہوا؟ سامنے کی بات ہے، عرب ملکوں میں بیداری کی جو ایک نئی لہر آئی ہے خطۂ شام نے بھی اس سے تقویت پائی ہے۔ ہمارے سب عرب داعی جوکہ شام کی صورتحال پر بڑی قریب سے نظر رکھتے ہیں شہادت دےرہے ہیں کہ شام میں اہل اسلام کی اس بیداری کو اٹھانے میں امریکہ کا کبھی کوئی کردار نہیں رہا۔ یہ خالصتاً ایک عوامی لہر تھی، عین ویسی ہی ایک لہر جو اس سے پہلے لیبیا، تیونس اور مصر میں آچکی ہے بلکہ اُن تینوں ملکوں کے مقابلے میں نسبتاً ایک زیادہ خالص اسلامی لہر۔ مگر اُن تینوں عرب ملکوں میں اس عوامی بیداری کے مقابلے پر وہاں کے ڈکٹیٹر کی مدد کو آنے کےلیے نہ روس نامی کوئی سپرپاور تیار بیٹھی تھی، نہ ایران ایسا کوئی اہل سنت کے خلاف بغض سے بھرا رافضی ملک اور نہ حزب اللہ ایسی کوئی تربیت یافتہ مسلح رافضی تنظیم۔ واقعات شاہد ہیں بڑی دیر تک یہ عوامی اپ رائزنگ ہی چلتی رہی اور اسی انداز میں چلتی رہی جس طرح مصر اور تیونس وغیرہ میں چلی تھی۔ مگر جب دوسری جانب رافضیت کی عالمی قوتیں خم ٹھونک کر میدان میں آگئیں اور اپنی عسکری قوت سے کام لیتے ہوئے شام کی اس عوامی تحریک کو پوری بربریت کے ساتھ خاک اور خون میں نہلانے لگیں (یاد رہے شام کے یہ عوام اہلسنت اکثریت پر مشتمل ہیں جن پر چار عشروں سے ایک رافضی اقلیت مسلط ہے)... تو اس ظلم وبربریت کے جواب میں یہاں کی عوامی مزاحمت کے پاس بھی کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بھی رفتہ رفتہ عسکری صورت دھارنے لگے۔ مگر درحقیقت یہ ایک عوامی اپ رائزنگ تھی۔ اس کو اگر اپنے آگے بڑھنے کےلیے تیونس اور مصر کی طرح پرامن راستہ مل جاتا اور بیرونی قوتوں کو بیچ میں نہ لایا جاتا تو اس کا یہ نقشہ نہ ہوتا۔
پھر جیسے جیسے معاملہ آگے بڑھتا رہا ویسے ویسے اہلسنت کی جہادی تنظیمیں اپنی مظلوم ومقہور قوم کی نصرت کےلیے شام کے میدان کا رخ کرتی چلی گئیں... البتہ جیسے ہی یہ عالمی جہادی تنظیمیں شام میں آئیں امریکہ کے کان کھڑے ہوگئے۔ امریکہ ایک سیانا ملک ہے۔ اُس کے پاس شام کی اس عوامی مزاحمت کو سنی جہادی تنظیموں سے دور کرنے کایہی طریقہ ہوسکتا تھا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ پر کرنے کی کوشش کرے۔ امریکہ کی شامیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی چال بنیادی طور شامیوں کو القاعدۃ ایسی تنظیموں سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے نہ کہ ایران دشمنی کی دلیل۔ ان ہتھکنڈوں سے کام لے کر امریکہ شامی عوام کو سمجھانا چاہ رہا ہے کہ ’ایران کے خلاف‘ اُن کو مدد دینے کےلیے مغربی بلاک اور اقوام متحدہ کے لاؤلشکر کے ساتھ ہم جو ہیں؛ شامی اس مشکل وقت میں القاعدۃ کی طرف کیوں دیکھیں! چنانچہ امریکہ کےلیے مناسب ترین چال یہی ہوسکتی تھی کہ ایک تو وہ اپنی عالمی ابلاغی قوت سے مدد لےکر شام کے اس پورے مزاحمتی عمل کا گاڈفادر بنا ہوا نظر آتا (اور امریکہ کی یہ چال کمال حد تک کامیاب جارہی ہے، جس کی ایک زندہ دلیل ہمارے یہاں کے اسلام پسندوں کے خیالاتِ عالیہ ہیں اور جوکہ صرف اور صرف عالمی میڈیا کے زیراثر پروان چڑھے ہیں نہ کہ اپنے کسی ذرائع سے معلومات لے کر)۔ دوسرا، وہ شام میں اپنی مرضی کے جہادی طبقے کھڑے کرنے کی کوشش کرتا اور جوکہ وہ اس وقت کررہا ہے۔
تاہم اپنی سنی جہادی تنظیموں کے ہاں اب تک ہمیں جو کمال دانشمندی نظر آئی ہے وہ یہ کہ... کسی بھی امریکی شرارت کے باوجود وہ شام کی اِس عوامی مزاحمتی رَو کو منقسم نہیں ہونے دے رہیں بلکہ اس کے مومنٹم کو اور سے اور بڑھا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی کسی بھی بڑھک کے باوجود شامی مجاہدین بٹے ہوئے نظر نہیں آرہے (اور جوکہ امریکہ اور ایران ہردو کی شدید خواہش ہے) اور کمال مہارت سے کام لیتے ہوئے، نُصَیری مظالم کے خلاف یک آواز ہوچکے عوامی محاذ کو موثر سے موثر تر ہونے کا موقع دے رہے ہیں۔ اول تو یہ اس لیے کہ امریکہ کے قدم زمین پر کہیں لگے ہوئے ہی نہیں ہیں۔ دوسرا، اس لیے کہ مجاہدین کی ضرب جو نُصَیری طاغوت کے سر پر بڑی کامیابی کے ساتھ پڑ رہی ہے کہیں اپنی شدت نہ کھودے۔ اور چونکہ مجاہدین اپنی اس مضبوط پوزیشن سے پوری طرح واقف ہیں اور اس بابت انہیں فی الحال کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہے؛ لہٰذا وہ امریکہ کے بولنے کا زیادہ نوٹس لینا بھی حالیہ مرحلے کےلیے ضروری نہیں جانتے اور صرف اپنے کام سے کام رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ امریکہ کا سچ جھوٹ یہیں پر نکل جائے اور کسی کو بول کر کچھ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے؟! ہاں جس دن امریکہ کا کوئی واضح حلیف میدان میں آگیا اُس دن دیکھا جائے گا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ البتہ فی الحال کےلیے ایک واضح اور یقینی ہدف کو چھوڑ کر ایک وہمی ہدف کا پیچھا کرنا بے وقت بھی ہوگا اور بےفائدہ بھی اور ایران و روس کی ایک خواہش پوری کرنے کا یقینی ذریعہ بھی۔ بلکہ حق تو یہ ہوگا کہ امریکہ کا کوئی حلیف میدان میں ہو بھی تو جس ہدف کو مجاہدین نے اپنے وار کےلیے ایک بار چن لیا ہے اُس کا کام تمام کیے بغیر اپنی توجہ کسی اور طرف کو نہ پھیریں؛ اس سے ایک طےشدہ ہدف بھی سر ہوگا اور عوامی مزاحمت بٹنے سے بھی بچی رہے گی، نیز ان مجاہدین کا امیج بھی اعلیٰ سے اعلیٰ حالت میں قائم رہے گا۔ اور شاید یہ بھی ہوجائے کہ جس طرح بوسنوی مسلمانوں نے اپنی ایک کڑی مشکل کے وقت عرب مجاہدین کو نصرت کےلیے آتے دیکھا تو وہ ان مجاہدین کے اس قدر ممنون ہوئے تھے کہ بعد میں امریکی اور عالمی میڈیا نے مجاہدین کے خلاف جتنا بھی زہر اگلا، بوسنوی مسلمانوں نے اپنے ان محسنوں کے خلاف پھیلائی جانے والی کسی بات کا یقین نہیں کیا اور یوں بوسنیا میں جہاد کے ہاتھوں اسلام کو وہ پختگی ملی تھی جو کسی تبلیغی عمل سے صدیوں میں جاکر نہ ہوتی۔
جہادِ شام کا ’’آج‘‘ اگر کسی حد تک پہلے افغان جہاد کے مشابہ ہے تو اِس کا ’’کل‘‘ حالیہ افغان جہاد کے مشابہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا مجاہدین کو نُصَیری ڈکٹیٹرشپ کے خاتمہ کے علاوہ فی الحال کسی بات کی جلدی نہ ہونی چاہئے۔ انہیں معلوم ہے اسلام کو اس کی حاکمانہ حیثیت دلوانے کا یہ مشن ایک لمبا مشن ہے جس پر ابھی بہت سے دور آسکتے ہیں اور اس کے ہر ہر مرحلہ میں ان کو بہترین دانشمندی اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے اور جوکہ شام کے محاذ پر وہ بالفعل دے رہے ہیں۔ جہادِ شام کا آج تو یہی کہتا ہے۔ جہادِشام کا کل کچھ اور کہتا ہے تو وہ اُس وقت جاکر دیکھنا چاہئے نہ کہ اُس کے شبہ میں اِس وقت کا ایک بنابنایا کھیل خراب کرلینا چاہئے (گو ایران کی خواہش یہی ہے اور اسی وجہ سے وہ ’امریکہ امریکہ‘ کے طعنے یوں دے رہا ہے جیسے پورے عالم اسلام میں اب تک ایران ہی امریکہ کے خلاف برسرجہاد رہا ہے!)۔ بہرحال آئندہ کے ممکنہ مراحل مجاہدین سے روپوش ہیں اور نہ امریکہ سے۔ یہ البتہ طے ہے کہ شامی صورتحال کو ابھی بہت سے موڑ مڑنے ہیں؛ شامی مزاحمت کی بابت ’پرو-امریکہ اور اینٹی- امریکہ‘ کا فیصلہ اتنی جلدی کردینا نہایت سطح بینی ہوگی۔ پس تاحال صورتحال سے یہ نتیجہ تو ضرور نکالا جاسکتا ہے کہ مجاہدین اور امریکہ اپنی اپنی کسی چال پر ہیں اور جنگ میں چالیں بہرحال چلی جاتی ہیں۔ لیکن کوئی اگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہے کہ یہ سب مجاہد تنظیمیں جن کی زندگی امریکہ کے خلاف لڑنے میں گزری ہے اور ان مجاہد تنظیموں کی پشت پر کھڑے یہ سب اہل سنت طبقے تو ہیں نرے امریکہ کے آلہ کار، جبکہ امریکہ کے خلاف کوئی سینہ سپر ہے تو وہ ہے رافضی ایران (جس نے آج تک امریکہ کے خلاف کوئی معرکہ نہیں لڑا)... تو ایسا شخص البتہ احمقوں کی جنت میں بستا ہے۔
یہ ہے حقیقت اس نام نہاد ’امریکی حمایت‘ کی جس کے باعث یہاں جہادِ شام کو باطل ٹھہرانے کے نکتہ ہائے دقیق پیش کیے جارہے ہیں!
*****
ہماری پاکستانی تنظیمیں پوچھ سکتی ہیں کہ یہ اتنی دور بیٹھی، شام میں لٹتی ان عصمتوں کےلیے کیا کرسکتی ہیں۔ ہمارا جواب ہوگا کہ پاکستان کی تنظیمیں اپنی شامی بہنوں اور بھائیوں کےلیے بہت کچھ کرسکتی ہیں۔ ایران آج تک ہماری یہاں کی بیشتر سنی تنظیموں کے ساتھ خوب خیرسگالی پالتا رہا ہے اور جس کا وہ ڈھیروں فائدہ اٹھاتا ہے۔ وقت آچکا ہے کہ ہماری یہ تنظیمیں ایرانی قونصل خانوں کے سامنے جاکر دھرنا دیں اور ایرانیوں پر واضح کردیں کہ شام میں ایران اور حزب اللہ کا یہ گھناؤنا کردار اور ان کا یہ ظلم وبربریت ہمارے لیے آخری حد تک ناقابل برداشت ہے۔ ایرانیوں پر واضح کردیں کہ تمہارا ’اتحاد بین المسلمین‘ کا ڈرامہ طشت از بام ہوچکا؛ آئندہ وہ یہاں کی کسی سنی تنظیم کو اپنے کسی ’شیعہ سنی اتحاد‘ کے ڈرامے پر ہرگز مت بلائے۔ ہماری یہ تنظیمیں اگر ایران پر اپنے یہ تیور واضح کردیتی ہیں تو ایران عالم اسلام میں اپنے آپ کو آخری حد تک تنہا محسوس کرنے لگے گا۔ ایران اس تنہائی کا متحمل ہی نہیں ہے۔ عالم عرب کا مسلمان جاگ چکا ہے اور وہ ایران سے اس کا منافقانہ ’شیعہ سنی اخوت‘ کا نعرہ سن کر اب اس پر ایک معنی خیز قہقہہ لگا سکتا ہے۔ عرب کے سلفی تو بہت دیر سے چیخ رہے تھے اخوان تک پر ایران کی حقیقت اب کھل چکی ہے۔ ایران کا فسوں اب صرف ہماری یہاں کی سادہ لوح تنظیموں پر چلتا ہے جو اُس کی دعوت پر بھاگم بھاگ ’اتحاد بین المسلمین‘ کے سٹیج پر جا کھڑی ہوتی ہیں۔ آج یہ بھی ایران پر واضح کردیں کہ یہ اُس کی دورخی جان چکی ہیں تو ایران اپنے اصل گھناؤنے چہرے کے ساتھ خودبخود سامنے آجا تا ہے۔ شامی مجاہدین کو دعائیں دیجئے جنہوں نے ایران کی اصل حقیقت پوری دنیا پر کھول کر رکھ دی، دعا کریں ان کی یہ بےمثال قربانیاں ہماری یہاں کی تنظیموں کے ہاتھوں رائیگاں نہ چلی جائیں؟ یہ کم ہمتی، یہ بےحسی، یہ لاعلمی اور یہ پسماندگی اور حالات سے لاتعلقی آخر ہمارے برصغیر کے حصے میں ہی کیوں آتی ہے؟ کیا یہ تنظیمیں طے کرچکیں کہ یہاں کا نوجوان ان کے ساتھ وابستہ اپنی ہر صالح امید ختم کرلے؟
ابنِ علی
ایک مسئلے پر قرضاوی(۱) بول پڑتے ہیں۔ مرسی (۲)چیخ اٹھتے ہیں۔ اخوان کی قیادتیں(۳) دہائی دینے لگتی ہیں؛ اور مصری نوجوانوں کو کھلے عام ترغیب دیتی ہیں کہ شام میں حزب اللہ اور ایران کے قاتل دستوں کے ہاتھوں لٹتی عصمتوں کو تحفظ دینے اور سنی خون کی ان بہتی ندیوں کو روکنے کےلیے جو ہوسکتا ہے کر گزریں۔ اردگان، شام میں یہ مظلوم خون بہتا نہیں دیکھ سکتے اور ان کی مدد کےلیے میدان میں اترنے والوں کےلیے اپنے ملک کی سرحدیں کھول دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں (اور جس کی اب وہ سزا بھی بھگت رہے ہیں)۔ غنوشی (۴)شام میں مسلح جہاد کی بات کرنے لگتے ہیں۔ زندانی(۵) (یمن کے نہایت مشہور عالم جو اخوان ہی کے منہج پر ہیں) حزب اللہ اور ایران کی خونریزی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا فتویٰ دینے لگتے ہیں۔ کیا یہ سب لوگ... یہ قرضاوی، یہ زندانی، یہ غنوشی، یہ مرسی، یہ مرشد الاخوان المسلمین، یہ اردگان، یہ عبد اللہ گل... کبھی آج تک ’شیعہ سنی‘ لڑائی کے لیے نعرے مارتے دیکھے گئے ہیں؟ کیا یہ سب لوگ... یہ قرضاوی، یہ زندانی، یہ غنوشی، یہ مرسی، یہ مرشد الاخوان المسلمین، یہ اردگان، یہ عبد اللہ گل... ’اتحادِ امت کو پارہ پارہ‘ کرنے کی کوششوں میں ملوث پائے گئے؟ ’ملی یکجہتی‘ کے بدخواہوں میں شمار ہوئے ہیں؟ حضرات کیا ان سب لوگوں کا منہج ہمیشہ سے لےکر عین وہی نہیں رہا جو ہماری یہاں کی تحریک اسلامی کے ہاں پایا گیا ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری جماعتِ اسلامی، ہماری تحریک اسلامی اور ہماری تنظیم اسلامی شام میں ایرانی مظالم پر مسلسل خاموش ہیں اور ایران کو اس پر تنبیہ کرنے تک کی روادار نہیں؟
*****
ایک مسئلے پر مصر کے سب سلفی چیخ پڑتے ہیں۔ شیخ حسان(۶) (مصر کی معروف ترین سلفی شخصیت) جہاد کی صلائے عام دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؛ بلکہ اس کےلیے تحریک چلاتے پھرتے ہیں۔ شیخ محمد عبد المقصود(۷) ، جن کو اس وقت مصر کا سب سے بڑا محدث کہا جاتا ہے شام میں گاجر مولی کی طرح کٹتے اہل سنت کے دفاع کےلیے جہاد کی نفیر عام کرنے لگتے ہیں۔ شیخ البانی کے سب سے معروف شاگرد اور علمی جانشین شیخ ابو اسحاق الحوینی(۸) (مقیم مصر) شام میں جہاد کو ’’فرض عین‘‘ تک کہنے چلے جاتے ہیں۔ شیخ البانی کے ایک دوسرے نامورترین شاگرد شیخ عدنان عرعور(۹) تو، جوکہ خود شام سے ہیں (حالیہ مقیم سعودی عرب) نہ صرف دو سال سے اِس جہاد کے حق میں مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں بلکہ جہادِ شام کے قائدین کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔ مصر کی سکہ بند سلفی جماعت انصار السنۃ المحمدیہ کے سربراہ عبد اللہ شاکر(۱۰) جہاد کی منادی کرنے والوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ’’سرکاری علماء‘‘ کے فتویٰ کی کمی تھی تو یہ لیجئے حالیہ شیخ الازہر احمد الطیب(۱۱) اور مصر کے وزیر اوقاف طلعت عفیفی (۱۲)جہادِ شام کے حق میں فتوائے عام دے رہے ہیں۔ بلکہ ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ تک کا حکم دے رہے ہیں(۱۳) ۔ کسی ظلم کی مذمت جائز ہونے کےلیے سعودی عرب کی کسی شخصیت کے لب ہلنے کی شرط تھی تو یہ لیجئے سعودیہ کی معروف ترین داعی شخصیت شیخ محمد العریفی (۱۴)جو مصر کی مشہور ترین مسجد جامع عمروبن العاص میں خطبۂ جمعہ ارشاد کرتے ہوئے جہادِ شام کی حمایت کا اعلان کرکے آتے ہیں۔ سعودی عرب کے ممتاز محدث و عالم دین عبدالعزیز طریفی(۱۵) نُصَیری وایرانی مظالم کے خلاف اور اس جہاد کے حق میں تائید کا علم بلند کرتے ہیں۔ اور اگر کسی ظلم کو ظلم کہنے کےلیے سعودی عرب کی سرکاری حیثیت رکھنا ہی ضروری تھا تو یہ لیجئے امام کعبہ شیخ سعود الشُریم (۱۶)مسجدِ حرام مکہ مکرمہ کےمنبر سے کھڑے ہوکر نہ صرف شام میں ہونے والے اس ظلم وبربریت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی بابت جو اسے ’مسلمانوں کے آپس کا فتنہ‘ قرار دیتے ہیں امام شُریم کہتے ہیں کہ ’’ یہ حنوط شدہ لاشیں ہیں کیونکہ اگر اندھے اور بہرے بھی ہوتےتو جان لیتے کہ یہ ایک عقیدہ کی جنگ ہے مگر سینوں میں پڑے دل ان حقیقتوں کو دیکھنے سے اندھے ہوجاتے ہیں‘‘، نیز شیخ شریم اپنے اسی خطبۂ جمعہ میں فرماتے ہیں کہ شام میں جاری یہ جنگ ویسی ہی ایک جنگ ہے جو معرکۂ شقحب کی صورت میں حملہ آور تاتاریوں کے خلاف لڑی گئی تھی (اور جس کی قیادت امام ابن تیمیہ نے فرمائی تھی)... یہ سب سلفی، سب سرکاری شخصیات جو ’ولی الامر‘ کے کہے سے باہر نہیں، یہ سب سعودی علماء شام میں اِس صفوی قتل عام پر چیخ پڑتے ہیں، مگر ہمارے یہاں کی سلفی جماعتیں ٹس سے مس ہونے پر تیار نہیں۔ آخر اس کے بعد وہ کونسا ظلم ہوگا جو ایران اور حزب اللہ کے جلاد شام کے اہل سنت پر کریں تو ہمارے یہ ’سلفی منہج‘ کے پابند حضرات اس پر آواز اٹھانا جائز سمجھیں گے؟ معاویہ بن ابی سفیانؓ کے دیس پر اس سے بڑھ کر کیا گزرے گی جس پر ہمارے یہ حضرات بول اٹھنے کے روادار ہوں؟ ولید بن عبدالملکؒ اور عمر بن عبدالعزیزؒ کے دارِ خلافت کی پامالی آلِ مجوس اس سے بڑھ کر کیا کریں گےتاآنکہ ہمارے یہ سلفی وسنی حضرات اس پر احتجاج کرنا ضروری جانیں؟
*****
اور اگر کسی کو دمشق، حلب، حمص، دِرعا، اِدلِب اور قصیر میں سنی خون کی یہ بہتی ندیاں دیکھ کر اس پر آواز اٹھانے میں محض یہ ’تحفظ‘ مانع ہے کہ اس میں امریکہ ملوث ہے، اور جوکہ اب تک شام کے معاملے میں صرف زبانی جمع خرچ کرتا چلا آیا ہے،جبکہ اقوامِ متحدہ کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق اب تک – یعنی کسی بھی امریکی امداد کے پہنچنے سے پہلے پہلے تک – شام میں 93 ہزار شہادتیں ہوچکی ہیں... کسی کو شام میں ایرانی نُصَیری مظالم کے خلاف آواز اٹھانے میں اگر محض یہ ایک بات مانع ہے کہ اس میں امریکہ اور یورپ کا بھی نام آتا ہے تو پھر یہ لیجئے تنظیم القاعدۃ جو پچھلے ڈیڑھ عشرے سے امریکہ اور یورپ کے خلاف برسرپیکار ہے، جہادِ شام کا علم بلند کرنے والے مجاہدین میں سرفہرست ہے۔ حزب التحریر ایسی ایک امریکہ مخالف تنظیم اِس جہادِ شام کے اندر پیش پیش ہے۔
*****
حضرات کیا آپ دیکھ نہیں رہے یہ پوری امت کا جہاد ہے، اور کوئی ایک بھی طبقہ اس سے پیچھے نہیں۔ اخوان، سلفی، صوفی، القاعدۃ، حزب التحریر، عامۃ الناس، حکومتوں کے حمایتی، حکومتوں کے مخالف، غرض پوری قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے۔ پچھلے ایک طویل عرصے سے کسی بھی خطے کے جہاد پر شاید اتنے مختلف الخیال طبقے یک آواز نہ ہوئے ہوں جتنے کہ جہادِ شام کی نصرت وحمایت پر۔
*****
نہ جانے ایرانی پراپیگنڈہ مشینری ہمارے یہاں کے اسلام پسندوں کی آنکھ میں دھول جھونک رہی ہے یا ہمارے یہ حضرات خود ہی اس قدر زیادہ ’باخبر‘ ہیں! حالانکہ یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ ایک جہاد اگر امریکہ کے اشاروں پر کیا جارہا ہو تو القاعدۃ اس میں کس طرح شریک ہوسکتی تھی؟ فرمانے لگے: یہ امریکہ اور القاعدۃ کے مابین ڈرامہ ہے! القاعدۃ اور امریکہ جن کے مابین پچھلے ڈیڑھ عشرے سے جنگ جاری ہے اور طرفین ایک دوسرے کا اتنا اتنا نقصان کرچکے ہیں کہ اس پر شک کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا۔ ماشاء اللہ، امریکہ اور القاعدۃ کے مابین تو ہے نرا ڈرامہ... البتہ امریکہ اور ایران کے مابین ڈرامہ ناممکن ہے!!!جبکہ ہر آدمی جانتا ہے پچھلے تین عشروں سے دونوں (امریکہ اور ایران) ایک دوسرے کے خلاف صرف بڑھکیں لگا رہے ہیں۔ بتائیے تو کیا نقصان کیا ہے آج تک ایران نے امریکہ کا اور امریکہ نے ایران کا؟ ’ڈرامہ‘ ابھی پھر دوسرے لوگ کررہے ہیں! اور اس نام نہاد ڈر امے میں صرف القاعدۃ اور طالبان ہی نہیں اب خیر سے حماس، اخوان، سلفی، ترکی، حزب التحریر سب شامل ہوگئے ہیں! اور بچا کون جو ابھی تک یہ ’ڈرامہ‘ نہیں کررہا، بلکہ جس کے خلاف یہ سب ’ڈرامہ‘ ہورہا ہے؟ ایران!!! وہ ’سچا کھرا، صاف گو، تقیہ سے پاک اور حق پرست‘ ایران جس کو امریکہ کے ساتھ جنگ کی اپنی دیرینہ حسرت پوری کرنے کےلیے آج تک کبھی افغانستان نظر آیا اور نہ عراق جہاں اس کا اپنا پڑوس تھا اور جہاں امریکہ ایک عشرے سے دندناتا پھرتا ہے۔ اِس امریکہ کے خلاف ’اعلانِ جہاد‘ کےلیے کونسا محاذ چنا جاتا ہے اور کس بیچارے کو اسلحہ کی دھار پر رکھا جاتا ہے؟ ’’شامی عوام‘‘ جو تیونس، لیبیا اور مصر کی طرح اپنے ملک میں ڈکٹیٹر کو ہٹانے کےلیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی!!! سبھی کو معلوم ہے شام کا بچہ بچہ اس نُصَیری کمیونسٹ ڈکٹیٹرشپ سے نجات پانے کےلیے تڑپتا رہا ہے اور جوکہ خطہ میں روس کا اہم ترین اتحادی رہا ہے ۔(۱۷)
ہمارے یہاں کے دینی حلقوں کو شام کی صورتحال سے کچھ زیادہ ہی واقف ہونے کا زعم ہو تو الگ بات ہے۔ ورنہ عرب خطے کا کوئی ایک بھی طبقہ جو رافضی نہیں ہے جہادِشام کے مبنی بر حقیقت ہونے کا منکر نہیں، جیساکہ ہم پیچھے بیان کرچکے۔ خطے کی سب تنظیمیں، سب دینی حلقے دہائی دے رہے ہیں کہ شام کی ڈکٹیٹر حکومت ایران اور حزب اللہ کے تعاون سے خطے کو آگ اور خون کا دریا بنا چکے ہیں اور یہ کہ معاملہ اس قدر آگے جاچکا ہے کہ اس کو جس بھی طریقے سے ممکن ہو روکنا ضروری ہے۔ البتہ ہمارے یہاں کے دینی حلقے ہیں جو نہ صرف اس پر کوئی پریشانی نہیں رکھتے بلکہ اپنے اس اطمینان اور خاموشی کا عذر ’امریکہ کے ملوث ہونے‘ میں تلاش کررہے ہیں!
ڈکٹیٹرشپ کے خلاف یہ عوامی بغاوت شام میں پچھلے ڈھائی سال سے جاری ہے۔ 2011 کا پورا سال، 2012 کا پورا سال، اور 2013 کا آدھا سال... کیا ہم ان ’باخبر‘ حضرات سے پوچھ سکتے ہیں کہ امریکہ نے یہ تمام عرصہ مجاہدین کو شام میں دیا کیا ہے؟ اقوامِ متحدہ کے نصف جون 2013 تک کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ شام میں شہادتوں کی تعداد 93 ہزار تک پہنچتی ہے۔ اس تاریخ تک امریکی امداد کا کوئی ایک ذرہ کسی مجاہد تنظیم کو نہیں پہنچتا۔ یعنی 93 ہزار شہادتیں ایک طرف (اور جوکہ امریکی امداد کی غیرموجودگی میں ہی ہوئی ہیں)... اور امریکہ کا زبانی جمع خرچ ایک طرف، جس کے باعث 93 ہزار شہادتیں بےوقعت ٹھہرا دی جاتی ہیں! کیا یہ بےحسی اور غیرذمہ داری کی انتہا نہیں ہے؟
امریکی امداد تو روس کے خلاف افغان جہاد کے دوران بھی آتی رہی ہے، اور بالفعل آتی رہی ہے (شام میں تو کم از کم نصف جون 2013 تک امریکی امداد سنی تک نہیں گئی)۔ افغان جہاد کے اُن برسوں کو آپ جہاد نہیں مانتے رہے؟ بلکہ آپ میں سے کئی جماعتیں کسی نہ کسی حیثیت میں یا کسی نہ کسی مرحلہ میں اس کے اندر شریک نہیں رہیں؟
کون نہیں جانتا، کمیونسٹ بلاک کی حکومتوں کے معاملہ میں امریکہ اور اس کا پورا مغربی بلاک ہمیشہ ایسا کرتا ہے۔ صربیوں نے ہمارے مسلم بوسنیا میں خون کی بدترین ہولی کھیلی؛ وہاں امریکہ اور اس کے مغربی حلیف مہینوں تک اسی طرح بڑھکیں مارتے رہے تھے یہاں تک کہ بوسنوی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا اور ہم ’امریکی حمایت‘ کو بہانہ بنا کر بڑے آرام سے خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہے۔ اس کے چند سال بعد جب مسلم کوسووا پر صربی مظالم توڑے گئے وہاں بھی امریکہ کوسووا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک دہائیاں دیتا اور سرد آہیں بھرتا رہا جب تک کوسووی مسلمانوں کا ستیاناس نہیں کردیا گیا اور ہم وہاں بھی اپنے اسی زعم میں سرشار کہ امریکہ جن مسلمانوں کے حق میں بولتا ہے ضرور ان کی دال میں کچھ کالا کالا ہے لہٰذا ایسے مسلمانوں کی مدد کےلیے کچھ کرنا یا ان کے حق میں بولنا ہم پر بحقِ شریعت ممنوع ہوجاتا ہے! یعنی جب بھی امریکہ کسی خطے کے مسلمانوں کے حق میں مگرمچھ کے آنسو رو دے ہم اس خطے کے مسلمانوں کوکافروں اور ظالموں کے رحم وکرم پر چھوڑ آیا کریں! یہاں، یعنی شام میں، بھی کہانی وہی ہے: روس اور اس کا ایک اتحادی جو اتفاق سے ایران کا منظورِ نظر بھی ہے کھل کھلا کر سامنے آئے ہیں؛ اور ظاہر ہے جہاں روس ہے وہاں امریکہ کو بھی اپنا حساب برابر کرنا ہے۔ امریکہ خواہ عملاً کچھ نہ کرے مگر کچھ کارگزاری اس کو یہاں بہرحال دکھانی ہے۔ حضرات کیا یہ چیز اہل شام کی قربانیوں کو رائیگاں ٹھہرانے کی دلیل بن سکتی ہے؟
اصل چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ شام کا یہ معاملہ شروع کیسے ہوا؟ سامنے کی بات ہے، عرب ملکوں میں بیداری کی جو ایک نئی لہر آئی ہے خطۂ شام نے بھی اس سے تقویت پائی ہے۔ ہمارے سب عرب داعی جوکہ شام کی صورتحال پر بڑی قریب سے نظر رکھتے ہیں شہادت دےرہے ہیں کہ شام میں اہل اسلام کی اس بیداری کو اٹھانے میں امریکہ کا کبھی کوئی کردار نہیں رہا۔ یہ خالصتاً ایک عوامی لہر تھی، عین ویسی ہی ایک لہر جو اس سے پہلے لیبیا، تیونس اور مصر میں آچکی ہے بلکہ اُن تینوں ملکوں کے مقابلے میں نسبتاً ایک زیادہ خالص اسلامی لہر۔ مگر اُن تینوں عرب ملکوں میں اس عوامی بیداری کے مقابلے پر وہاں کے ڈکٹیٹر کی مدد کو آنے کےلیے نہ روس نامی کوئی سپرپاور تیار بیٹھی تھی، نہ ایران ایسا کوئی اہل سنت کے خلاف بغض سے بھرا رافضی ملک اور نہ حزب اللہ ایسی کوئی تربیت یافتہ مسلح رافضی تنظیم۔ واقعات شاہد ہیں بڑی دیر تک یہ عوامی اپ رائزنگ ہی چلتی رہی اور اسی انداز میں چلتی رہی جس طرح مصر اور تیونس وغیرہ میں چلی تھی۔ مگر جب دوسری جانب رافضیت کی عالمی قوتیں خم ٹھونک کر میدان میں آگئیں اور اپنی عسکری قوت سے کام لیتے ہوئے شام کی اس عوامی تحریک کو پوری بربریت کے ساتھ خاک اور خون میں نہلانے لگیں (یاد رہے شام کے یہ عوام اہلسنت اکثریت پر مشتمل ہیں جن پر چار عشروں سے ایک رافضی اقلیت مسلط ہے)... تو اس ظلم وبربریت کے جواب میں یہاں کی عوامی مزاحمت کے پاس بھی کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بھی رفتہ رفتہ عسکری صورت دھارنے لگے۔ مگر درحقیقت یہ ایک عوامی اپ رائزنگ تھی۔ اس کو اگر اپنے آگے بڑھنے کےلیے تیونس اور مصر کی طرح پرامن راستہ مل جاتا اور بیرونی قوتوں کو بیچ میں نہ لایا جاتا تو اس کا یہ نقشہ نہ ہوتا۔
پھر جیسے جیسے معاملہ آگے بڑھتا رہا ویسے ویسے اہلسنت کی جہادی تنظیمیں اپنی مظلوم ومقہور قوم کی نصرت کےلیے شام کے میدان کا رخ کرتی چلی گئیں... البتہ جیسے ہی یہ عالمی جہادی تنظیمیں شام میں آئیں امریکہ کے کان کھڑے ہوگئے۔ امریکہ ایک سیانا ملک ہے۔ اُس کے پاس شام کی اس عوامی مزاحمت کو سنی جہادی تنظیموں سے دور کرنے کایہی طریقہ ہوسکتا تھا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ پر کرنے کی کوشش کرے۔ امریکہ کی شامیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی چال بنیادی طور شامیوں کو القاعدۃ ایسی تنظیموں سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے نہ کہ ایران دشمنی کی دلیل۔ ان ہتھکنڈوں سے کام لے کر امریکہ شامی عوام کو سمجھانا چاہ رہا ہے کہ ’ایران کے خلاف‘ اُن کو مدد دینے کےلیے مغربی بلاک اور اقوام متحدہ کے لاؤلشکر کے ساتھ ہم جو ہیں؛ شامی اس مشکل وقت میں القاعدۃ کی طرف کیوں دیکھیں! چنانچہ امریکہ کےلیے مناسب ترین چال یہی ہوسکتی تھی کہ ایک تو وہ اپنی عالمی ابلاغی قوت سے مدد لےکر شام کے اس پورے مزاحمتی عمل کا گاڈفادر بنا ہوا نظر آتا (اور امریکہ کی یہ چال کمال حد تک کامیاب جارہی ہے، جس کی ایک زندہ دلیل ہمارے یہاں کے اسلام پسندوں کے خیالاتِ عالیہ ہیں اور جوکہ صرف اور صرف عالمی میڈیا کے زیراثر پروان چڑھے ہیں نہ کہ اپنے کسی ذرائع سے معلومات لے کر)۔ دوسرا، وہ شام میں اپنی مرضی کے جہادی طبقے کھڑے کرنے کی کوشش کرتا اور جوکہ وہ اس وقت کررہا ہے۔
تاہم اپنی سنی جہادی تنظیموں کے ہاں اب تک ہمیں جو کمال دانشمندی نظر آئی ہے وہ یہ کہ... کسی بھی امریکی شرارت کے باوجود وہ شام کی اِس عوامی مزاحمتی رَو کو منقسم نہیں ہونے دے رہیں بلکہ اس کے مومنٹم کو اور سے اور بڑھا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی کسی بھی بڑھک کے باوجود شامی مجاہدین بٹے ہوئے نظر نہیں آرہے (اور جوکہ امریکہ اور ایران ہردو کی شدید خواہش ہے) اور کمال مہارت سے کام لیتے ہوئے، نُصَیری مظالم کے خلاف یک آواز ہوچکے عوامی محاذ کو موثر سے موثر تر ہونے کا موقع دے رہے ہیں۔ اول تو یہ اس لیے کہ امریکہ کے قدم زمین پر کہیں لگے ہوئے ہی نہیں ہیں۔ دوسرا، اس لیے کہ مجاہدین کی ضرب جو نُصَیری طاغوت کے سر پر بڑی کامیابی کے ساتھ پڑ رہی ہے کہیں اپنی شدت نہ کھودے۔ اور چونکہ مجاہدین اپنی اس مضبوط پوزیشن سے پوری طرح واقف ہیں اور اس بابت انہیں فی الحال کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہے؛ لہٰذا وہ امریکہ کے بولنے کا زیادہ نوٹس لینا بھی حالیہ مرحلے کےلیے ضروری نہیں جانتے اور صرف اپنے کام سے کام رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ امریکہ کا سچ جھوٹ یہیں پر نکل جائے اور کسی کو بول کر کچھ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے؟! ہاں جس دن امریکہ کا کوئی واضح حلیف میدان میں آگیا اُس دن دیکھا جائے گا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ البتہ فی الحال کےلیے ایک واضح اور یقینی ہدف کو چھوڑ کر ایک وہمی ہدف کا پیچھا کرنا بے وقت بھی ہوگا اور بےفائدہ بھی اور ایران و روس کی ایک خواہش پوری کرنے کا یقینی ذریعہ بھی۔ بلکہ حق تو یہ ہوگا کہ امریکہ کا کوئی حلیف میدان میں ہو بھی تو جس ہدف کو مجاہدین نے اپنے وار کےلیے ایک بار چن لیا ہے اُس کا کام تمام کیے بغیر اپنی توجہ کسی اور طرف کو نہ پھیریں؛ اس سے ایک طےشدہ ہدف بھی سر ہوگا اور عوامی مزاحمت بٹنے سے بھی بچی رہے گی، نیز ان مجاہدین کا امیج بھی اعلیٰ سے اعلیٰ حالت میں قائم رہے گا۔ اور شاید یہ بھی ہوجائے کہ جس طرح بوسنوی مسلمانوں نے اپنی ایک کڑی مشکل کے وقت عرب مجاہدین کو نصرت کےلیے آتے دیکھا تو وہ ان مجاہدین کے اس قدر ممنون ہوئے تھے کہ بعد میں امریکی اور عالمی میڈیا نے مجاہدین کے خلاف جتنا بھی زہر اگلا، بوسنوی مسلمانوں نے اپنے ان محسنوں کے خلاف پھیلائی جانے والی کسی بات کا یقین نہیں کیا اور یوں بوسنیا میں جہاد کے ہاتھوں اسلام کو وہ پختگی ملی تھی جو کسی تبلیغی عمل سے صدیوں میں جاکر نہ ہوتی۔
جہادِ شام کا ’’آج‘‘ اگر کسی حد تک پہلے افغان جہاد کے مشابہ ہے تو اِس کا ’’کل‘‘ حالیہ افغان جہاد کے مشابہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا مجاہدین کو نُصَیری ڈکٹیٹرشپ کے خاتمہ کے علاوہ فی الحال کسی بات کی جلدی نہ ہونی چاہئے۔ انہیں معلوم ہے اسلام کو اس کی حاکمانہ حیثیت دلوانے کا یہ مشن ایک لمبا مشن ہے جس پر ابھی بہت سے دور آسکتے ہیں اور اس کے ہر ہر مرحلہ میں ان کو بہترین دانشمندی اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے اور جوکہ شام کے محاذ پر وہ بالفعل دے رہے ہیں۔ جہادِ شام کا آج تو یہی کہتا ہے۔ جہادِشام کا کل کچھ اور کہتا ہے تو وہ اُس وقت جاکر دیکھنا چاہئے نہ کہ اُس کے شبہ میں اِس وقت کا ایک بنابنایا کھیل خراب کرلینا چاہئے (گو ایران کی خواہش یہی ہے اور اسی وجہ سے وہ ’امریکہ امریکہ‘ کے طعنے یوں دے رہا ہے جیسے پورے عالم اسلام میں اب تک ایران ہی امریکہ کے خلاف برسرجہاد رہا ہے!)۔ بہرحال آئندہ کے ممکنہ مراحل مجاہدین سے روپوش ہیں اور نہ امریکہ سے۔ یہ البتہ طے ہے کہ شامی صورتحال کو ابھی بہت سے موڑ مڑنے ہیں؛ شامی مزاحمت کی بابت ’پرو-امریکہ اور اینٹی- امریکہ‘ کا فیصلہ اتنی جلدی کردینا نہایت سطح بینی ہوگی۔ پس تاحال صورتحال سے یہ نتیجہ تو ضرور نکالا جاسکتا ہے کہ مجاہدین اور امریکہ اپنی اپنی کسی چال پر ہیں اور جنگ میں چالیں بہرحال چلی جاتی ہیں۔ لیکن کوئی اگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہے کہ یہ سب مجاہد تنظیمیں جن کی زندگی امریکہ کے خلاف لڑنے میں گزری ہے اور ان مجاہد تنظیموں کی پشت پر کھڑے یہ سب اہل سنت طبقے تو ہیں نرے امریکہ کے آلہ کار، جبکہ امریکہ کے خلاف کوئی سینہ سپر ہے تو وہ ہے رافضی ایران (جس نے آج تک امریکہ کے خلاف کوئی معرکہ نہیں لڑا)... تو ایسا شخص البتہ احمقوں کی جنت میں بستا ہے۔
یہ ہے حقیقت اس نام نہاد ’امریکی حمایت‘ کی جس کے باعث یہاں جہادِ شام کو باطل ٹھہرانے کے نکتہ ہائے دقیق پیش کیے جارہے ہیں!
*****
ہماری پاکستانی تنظیمیں پوچھ سکتی ہیں کہ یہ اتنی دور بیٹھی، شام میں لٹتی ان عصمتوں کےلیے کیا کرسکتی ہیں۔ ہمارا جواب ہوگا کہ پاکستان کی تنظیمیں اپنی شامی بہنوں اور بھائیوں کےلیے بہت کچھ کرسکتی ہیں۔ ایران آج تک ہماری یہاں کی بیشتر سنی تنظیموں کے ساتھ خوب خیرسگالی پالتا رہا ہے اور جس کا وہ ڈھیروں فائدہ اٹھاتا ہے۔ وقت آچکا ہے کہ ہماری یہ تنظیمیں ایرانی قونصل خانوں کے سامنے جاکر دھرنا دیں اور ایرانیوں پر واضح کردیں کہ شام میں ایران اور حزب اللہ کا یہ گھناؤنا کردار اور ان کا یہ ظلم وبربریت ہمارے لیے آخری حد تک ناقابل برداشت ہے۔ ایرانیوں پر واضح کردیں کہ تمہارا ’اتحاد بین المسلمین‘ کا ڈرامہ طشت از بام ہوچکا؛ آئندہ وہ یہاں کی کسی سنی تنظیم کو اپنے کسی ’شیعہ سنی اتحاد‘ کے ڈرامے پر ہرگز مت بلائے۔ ہماری یہ تنظیمیں اگر ایران پر اپنے یہ تیور واضح کردیتی ہیں تو ایران عالم اسلام میں اپنے آپ کو آخری حد تک تنہا محسوس کرنے لگے گا۔ ایران اس تنہائی کا متحمل ہی نہیں ہے۔ عالم عرب کا مسلمان جاگ چکا ہے اور وہ ایران سے اس کا منافقانہ ’شیعہ سنی اخوت‘ کا نعرہ سن کر اب اس پر ایک معنی خیز قہقہہ لگا سکتا ہے۔ عرب کے سلفی تو بہت دیر سے چیخ رہے تھے اخوان تک پر ایران کی حقیقت اب کھل چکی ہے۔ ایران کا فسوں اب صرف ہماری یہاں کی سادہ لوح تنظیموں پر چلتا ہے جو اُس کی دعوت پر بھاگم بھاگ ’اتحاد بین المسلمین‘ کے سٹیج پر جا کھڑی ہوتی ہیں۔ آج یہ بھی ایران پر واضح کردیں کہ یہ اُس کی دورخی جان چکی ہیں تو ایران اپنے اصل گھناؤنے چہرے کے ساتھ خودبخود سامنے آجا تا ہے۔ شامی مجاہدین کو دعائیں دیجئے جنہوں نے ایران کی اصل حقیقت پوری دنیا پر کھول کر رکھ دی، دعا کریں ان کی یہ بےمثال قربانیاں ہماری یہاں کی تنظیموں کے ہاتھوں رائیگاں نہ چلی جائیں؟ یہ کم ہمتی، یہ بےحسی، یہ لاعلمی اور یہ پسماندگی اور حالات سے لاتعلقی آخر ہمارے برصغیر کے حصے میں ہی کیوں آتی ہے؟ کیا یہ تنظیمیں طے کرچکیں کہ یہاں کا نوجوان ان کے ساتھ وابستہ اپنی ہر صالح امید ختم کرلے؟
